سابق ایم پی عتیق احمد کی 76 کروڑ کی جائیدادیں کی گئی قرق۔
پریاگ راج: گجرات کی سابرمتی جیل میں بند سابق ایم پی عتیق احمد کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یوگی حکومت کی طرف سے چلائے جا رہے آپریشن مافیا کے تحت عتیق احمد پر ضلع انتظامیہ نے بدھ کو کارروائی کرتے ہوئے عتیق احمد کی 3 جائیدادیں قرق کر دیں۔ جس کی قیمت 76 کروڑ بتائی جارہی ہے۔
ان جائیدادوں کو دھوم گنج اور پورمفتی پولیس اسٹیشنوں نے گینگسٹر ایکٹ کے تحت ضبط کیا ہے۔ اٹیچ میں جانے والی پولیس اور انتظامیہ کی ٹیموں نے ڈگڈگی بجا کر اعلان کیا۔ اس کے بعد تینوں پلاٹوں پر اٹیچمنٹ کا بورڈ بھی لگا دیا گیا ہے۔
سابق ایم پی عتیق احمد کے خلاف دھوم گنج تھانے میں گینگسٹر ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس معاملے کی تفتیش کے دوران پولیس کو ان جائیدادوں کے بارے میں معلومات ملی۔ جس کے بعد پولس نے ڈی ایم سے ان پلاٹوں کو اٹیچ کرنے کی اجازت مانگی تھی۔ ڈی ایم کی اجازت ملنے کے بعد پولیس اور انتظامیہ نے اٹیچمنٹ کی کارروائی کی ہے۔ ایس پی سٹی دنیش کمار سنگھ اور ایس ڈی ایم صدر یوراج سنگھ کی قیادت میں اٹیچمنٹ پر گئی ٹیم نے سب سے پہلے شاہ پور عرف پیپل گاؤں میں 1.945 ہیکٹر اراضی پر قبضے کی کارروائی کی۔ یہ زمین عتیق احمد کی اہلیہ شائستہ پروین کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔ دوسری کاروائی اکبر پور مرزا پور میں کی گئی یہ زمین بھی شائستہ پروین کا نام پر ہے جبکہ کہ رحم آباد میں کرکے زمین عتیق احمد کے نام پر ہے۔
ایس پی سٹی دنیش کمار سنگھ کے مطابق تینوں پلاٹ 12 بیگھہ سے زیادہ ہیں اور ان کی تخمینہ قیمت 76 کروڑ روپے ہے۔ اٹیچمنٹ کی کارروائی کے بعد ایس ڈی ایم صدر یوراج سنگھ کو تینوں منسلک زمینوں کا نگران بنایا گیا ہے۔۔