سوئیڈن میں قران کریم کے نسخے جلائے جانے کے مذموم واقعہ کے بعد بھڑکا فساد، 40 سے زائد زخمی، قرآن پاک کی بےحرمتی سے عالم اسلام میں شدید غم و غصہ۔
نئی دہلی: (ڈی ٹی ورلڈ) سویڈن میں دائیں بازو کے اسلام مخالف انتہا پسندوں کی جانب سے قرآن پاک جلانے کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں۔ دائیں بازو کے انتہا پسند ڈچ سیاستدان ریسمس پلودن نے بھی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کی تقریب میں شرکت کی کوشش کی۔
جیو نیوز کے مطابق سویڈن کی پولیس نے ڈچ سیاستدان پلودن کو قرآن پاک کی بے حرمنی کرنے اور اسے نذر آتش کرنے کی تقریب سے روکتے ہوئے ڈج سیاستدان کو واپس سرحد پار بھیج دیا اور کہا کہ ان پر ملک میں داخلے کے لیے دو سال کی پابندی عائد ہے۔
دائیں بازو کے انتہا پسندوں نے اسلام مخالف ڈچ رہنما کو قرآن پاک کی بے حرمتی کی تقریب میں شرکت کی اجازت نہ ملنے پر سویڈن کے جنوبی شہر میلمو میں مظاہرے مظاہرے شروع کر دیے۔ پولیس سے جھڑپوں میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اسلام مخالف مظاہرین نے کئی گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا اور دکانوں کو آگ لگا دی۔
پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں میں کئی پولیس اہلکار و افسران زخمی ہوئے ہیں، غیر ملکی خبرایجنسی کے مطابق سوئیڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم اور دیگر شہروں میں ہونے والے مظاہروں میں 26 پولیس اہلکار اور 14 شہری زخمی ہوچکے ہیں۔
پولیس کے مطابق مظاہروں کےدوران نورکوپنگ شہر سے 8 اور لنک کوپنگ سے 18 افراد کو گرفتار  بھی کیا گیا ہے۔

دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت کے ڈینش سربراہ اسٹارم کرس کو ڈنمارک میں گزشتہ برس نسلی تعصب کے الزامات پر ایک ماہ جیل کی سزا سنائی گئی تھی۔
خیال رہےکہ سوئیڈن میں احتجاج کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب انتہائی دائیں بازو کے انتہا پسند ڈینش نژاد سوئیڈش سیاست دان  ریسمس پلودن کی جانب سے قران مجید کے نسخے نذر آتش کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اس سے قبل  ریسمس پلودن کی جانب سے اسلام مخالف ریلیاں بھی نکالی گئی تھیں۔

قرآن پاک کی بے حرمتی پر سعودیہ اور عراق کی مذمت
سعودی عرب نے سوئیڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے، اس کے علاوہ ایران اور عراق نے معاملے پر سویڈن کے سفارت کاروں کو طلب کیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق قرآن پاک کی بے حرمتی کا واقعہ سوئیڈن کے شہر لنکوپنگ میں اسلام مخالف ریلی کے دوران پیش آیا۔۔واقعے پر عراق کی وزارت خارجہ نے سوئیڈش سفارتخانے کے ناظم الامور کو بلاکر شدید احتجاج ریکارڈ کیا۔ وزارت خارجہ کی جانب سے تنبیہ کی گئی ہے  کہ یہ معاملات سوئیڈن کے تمام مسلمانوں سے تعلقات کو مزید خراب کریں گے۔
دوسری جانب سعودی عرب نے بھی سوئیڈن میں بعض انتہا پسندوں کی طرف سے قرآن پاک کی  بے حرمتی اور مسلمانوں  کے خلاف خلاف اشتعال انگیزی کی مذمت کی ہے۔ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی نے بھی اس واقعہ کی شدید مذمت کی ہے۔