Latest News

سعودی عرب کے فیصلے کا ہندوستان میں اثر، وشو ہندو پریشد کا حکومت سے تبلیغی جماعت اور دارالعلوم دیوبند پر مکمل پابندی لگانے کا مطالبہ، لگائے انتہائی سنگین الزامات۔

سعودی عرب کے فیصلے کا ہندوستان میں اثر، وشو ہندو پریشد کا حکومت سے تبلیغی جماعت اور دارالعلوم دیوبند پر مکمل پابندی لگانے کا مطالبہ، لگائے انتہائی سنگین الزامات۔
نئی دہلی: تبلیغی جماعت پر سعودی عرب میں حالیہ پابندی کے بعد ہندوستان میں بھی اس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ملک کی ہندو تنظیم "وشو ہندو پریشد" نے بھارت میں اس گروپ پر مکمل پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اس سلسلے میں وشو ہندو پریشد نے جمعرات کو بین الاقوامی ورکنگ صدر آلوک کمار کے حوالے سے تنظیم کے ٹوئٹر ہینڈل پر ایک پریس ریلیز جاری کی گئی ہے۔
اس ریلیز میں آلوک کمار نے سعودی عرب کی حکومت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے تبلیغی جماعت کو 'اسلامی شدت پسندی کی فیکٹری' اور 'عالمی دہشت گردی کی پرورش کرنے والی' تنظیم قرار دیا ہے۔ اس لیے یہ ادارہ نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک خطرہ بن گیا ہے۔
وی ایچ پی کا الزام ہے کہ امریکن ٹریڈ سینٹر پر حملہ، گودھرا میں 59 ہندوؤں کو زندہ جلانا اور سوامی شردھانند کا وحشیانہ قتل، یہ سب  تبلیغی مرکز کے نظریے سے جڑے ہوئے ہیں۔
وی ایچ پی نے تبلیغی جماعت سے متعلق حکومت سے چار مطالبات کیے ہیں۔
پہلا یہ کہ ہندوستان میں تبلیغی جماعت اور اس کے پیروکاروں کے ساتھ اجتماع پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ ان کا دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ نظام الدین مرکز کی عمارتوں اور ان کے بینک اکاؤنٹس کو فوری طور پر سیل کیا جائے۔
تیسرا مطالبہ یہ ہے کہ ان کے معاشی ذرائع تلاش کرکے انہیں بند کیا جائے۔ آخری اور چوتھا مطالبہ یہ ہے کہ دارالعلوم دیوبند اور پی ایف آئی جیسی ان کی حمایت کرنے والی تنظیموں کے خلاف بھی کریک ڈاؤن کیا جائے۔

آلوک کمار نے مزید کہاکہ سعودی عرب کی حکومت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرنے کے بجائے، ہندوستان میں کچھ مسلم تنظیموں کی مخالفت نے دہشت گردی کو پروان چڑھانے میں اپنا کردار واضح کر دیا ہے۔ درحقیقت اس تبلیغی جماعت کی اصل پیدائش دارالعلوم دیوبند سے ہے۔
یہ بھی کہا گیا کہ 1926 میں نظام الدین سے شروع ہونے والے اس ادارے کو میوات، ہریانہ میں مذہب تبدیل کرانے سے طاقت ملی اور آج یہ دنیا کے 100 سے زیادہ ممالک میں پھیل چکا ہے۔

DT Network

Post a Comment

0 Comments

خاص خبر