حجاب ضروری ہے یا نہیں یہ جج صاحب تھوڑی بتائیں گے، جو کام دہشت گرد کرناچاہتے تھے وہ اب فلم میکر کررہے: ڈاکٹر ایس وائی قریشی
بھوپال: (ایجنسی) بھاسکر کے مقامی ایڈیٹر نے سابق الیکشن کمشنر ڈاکٹر ایس وائی قریشی سے مسلمانوں کی آبادی، تعدد ازدواج، طلاق ثلاثہ، لوجہاد، حجاب اور کشمیری پنڈتوں کے مسائل پر گفتگو کی جس پر انہو ںنے سلسلہ وار جواب دیتے ہوئے کہاکہ ’’حجاب قرآن کا حصہ نہیں، لیکن یہ ضرور کہاگیا ہے کہ مرد عورت دونوں کو مناسب کپڑے پہننے چاہئے، کالج میں پابندی کی بات ہوئی، لیکن وہاں تو یونیفارم نہیں ہوتا، اسکول یونیفارم میں سکھوں کی پگڑی، سندور کی اجازت ہے تو پھر حجاب سے کیسی پریشانی، حجاب ضروری ہے یا نہیں یہ جج صاحب تھوڑی بتائیں گے، یہ مولانا بتائیں گے، مولانا آئی پی سی کے فیصلے دینے لگے تو کیا یہ درست ہوگا؟
انہوں نے لو جہاد پر کہاکہ ’’میرے اور میری اہلیہ کے درمیان لوجہاد ہے، میرے گھر میں بیٹیاں بھی لو جہاد کرتی ہیں، محبت کی کوئی سرحد نہیں، ویسے تو لو جہاد سے مسلمان لڑکیاں سب سے زیادہ نقصان میں ہے، پڑھے لکھے مسلمان لڑکوں کو ہندو پڑھی لکھی لڑکیاں اڑا کر لے جاتی ہیں، مسلمان عورتوں کے اینگل سے اسے کسی نے دیکھا ہی نہیں۔ انہوں نے طلاق ثلاثہ پر قانون کے اثر کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ جو جاہل ہیں وہی تین طلاق کہتے ہیں، تین طلاق کا مسلمان عورتوں کو نقصان ہی ہوا ہے شوہر کو جیل ہوئی تو بچے بھوکے مرجائیں گے۔

انہوں نے کشمیری پنڈتوں کے تعلق سے کہاکہ پنڈتوں کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے یہ سچ ہے لیکن پنڈتوں کو مارا تو مسلمانوں کو بھی مارا، انسانیت سے مطلب ہونی چاہئے، مذہب سے نہیں یہ تو وہی ہوا کہ جو کام دہشت گرد کرناچاہتے تھے وہ کام اب یہ فلم میکر کررہے ہیں عوام کو تقسیم کررہے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ یوگی کی جیت فرقہ پرستی کی جیت ہے، پولرائزیشن گزشتہ بیس برسوں سے چناوی ہتھکنڈہ ہے حالات یہ ہی ںکہ دو بچے بھی آمنے سامنے لڑرہے ہوں تو اسے پولرائزیشن قرار دیاجاتا ہے۔