حجاب تنازع: امتحان چھوڑنے والی طالبات کو نہیں ملے گا دوسرا موقع۔
بنگلورو :(ایجنسی)
کرناٹک میں حجاب تنازع پر ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد کئی مسلم طالبات نے امتحانات کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ اب کرناٹک حکومت نے کہا ہے کہ وہ امتحان میں غیر حاضر رہنے والی طالبات کے لیے دوبارہ امتحان منعقد نہیں کرائے گی۔ کرناٹک کے وزیر تعلیم بی سی ناگیش نے کہا کہ امتحان کے دوران غیر حاضر رہنے کے پیچھے چاہے جو بھی وجہ رہی ہو لیکن سرکار پھر سے امتحان نہیں کرائے گی۔
حجاب تنازع کو لے کر کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد کرناٹک میں کئی مقامات پر مظاہرے ہوئے تھے۔ ریاستی وزیر قانون اور پارلیمانی امور جے سی مادھسوامی نے کہا کہ ان کی حکومت عدالت کے فیصلے کے خلاف نہیں جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل کیا جائے گا۔
دوسری طرف، کیمپس فرنٹ آف انڈیا (سی ایف آئی) نے پیر کو ایک پریس کانفرنس کی اور کہا کہ وہ سپریم کورٹ میں اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔ سی ایف آئی نے کہا ہے کہ طالبات کو امتحان نہ دینے کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے کیونکہ بی جے پی حکومت نہیں چاہتی کہ مسلم طالبات تعلیم حاصل کریں۔

اسکولوں کا بائیکاٹ جاری
اس دوران مسلم طالبات نے اسکولوں کا بائیکاٹ جاری رکھا اور پیر کو بھی تقریباً 400 طالبات اسکولوں اور کالجوں میں نہیں آئیں۔ دکشن کنڑ ضلع کے ایک سرکاری اسکول میں طالبات نے حجاب پہننے کی اجازت نہ دینے پر اسکول کا بائیکاٹ کردیا۔ کچھ طالبات نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ ماضی میں بھی وہ برقعہ پہن کر امتحانات کے لیے آئی تھیں اور ان سے کبھی سوال نہیں کیا گیا تھا لیکن اب اسے ہٹانے کے لیے کہا جا رہا ہے۔
ہائی کورٹ نے حجاب پر پابندی کو جاری رکھتے ہوئے اس معاملے میں دائر تمام پانچ درخواستوں کو خارج کر دیا تھا۔ کرناٹک حکومت نے جہاں اس فیصلے کا خیر مقدم کیا، وہیں جموں و کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے اس فیصلے کو مایوس کن قرار دیا تھا۔

ہائی کورٹ نے کیا کہاتھا؟
ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی برقرار رہے گی اور یہ ضروری مذہبی عمل نہیں ہے۔ عدالت نے کہا تھا کہ جیسے ہی حجاب کے معاملے میں تنازع بڑھتا گیا، ایسا لگتا ہے کہ کچھ ’خفیہ ہاتھ‘ اس معاملے میں سماجی بے چینی پیدا کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ عدالت نے کہا تھا کہ ہم اس بات سے بھی مایوس ہیں کہ تعلیمی سیشن کے درمیان حجاب کا مسئلہ کیسے پیدا ہوا اور اسے اتنا بڑا بنایا گیا۔
حجاب کا تنازع جنوری میں اس وقت شروع ہوا جب اڈوپی کے ایک اسکول کی طالبات نے اساتذہ کی درخواست کے باوجود حجاب اتارنے سے انکار کردیا۔ اس کے بعد پانچ لڑکیاں عدالت گئی تھیں۔ دوسری جانب طلبہ کے ایک حصے نے بھگوا اسکارف پہن کر حجاب کے خلاف احتجاج کیا۔