چھ کلومیٹر کے سفر دوران ڈاکٹر کفیل کی گاڑی کی چھ مرتبہ لی گئی تلاشی۔
لکھنؤ :(ایجنسی)
دیوریا-کشی نگر سے ایس پی کے ایم ایل سی امیدوار ڈاکٹر کفیل خان نے پولیس پر انہیں ہراساں کرنے کا الزام لگایا ہے۔ کفیل خان نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس ان کی گاڑی کی تلاشی لے رہی ہے۔ اس دوران کفیل خان کی پولیس کے ساتھ بحث ہوتی ہے ۔ فیس بک پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کفیل خان نے کہاکہ 6 کلومیٹر کے فاصلے پر 6 بار ان کی گاڑی کی تلاشی لی گئی ۔

ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ڈاکٹر کفیل خان نے لکھا کہ ’6 کلومیٹر کے فاصلے پر 6 بار گاڑی کی تلاشی ،کہتے ہیں کہ گاڑی پیسوں سے بھری ہے ایسی اطلاع ہے، ملا ہر بار صرف نوراتری کی مٹھائی ،افطار کھولنے کے لئے کچھ کھجور اور کتابیں ۔ بولے ڈاکٹر صاحب ایسے الیکشن جیتیں گے ۔ میں نے کہا: اقتدار کی گھبراہٹ تو یہ پیغام دے رہی ہے کہ میں الیکشن جیت گیا۔
ڈاکٹر کفیل خان نے بتایا کہ جب وہ ایک میٹنگ سے واپس آرہے تھے تو بنکاٹا پولیس نے ان کی گاڑی کو روک کر گاڑی کی تلاشی لی۔ اس دوران ایس پی امیدوار کی تھانہ انچارج دلیپ سنگھ سے بھی گرما گرم بحث ہوئی۔ اس دوران پولیس افسر نے ڈاکٹر کفیل خان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا، ’خاموش کھڑے رہو، مجھے اپنا کام کرنے دو۔ میرے کام میں خلل مت ڈالو۔‘
ایس پی امیدوار نے بتایا کہ ان کی گاڑی کے علاوہ پولیس نے ساتھ آنے والی گاڑیوں کی بھی تلاشی لی۔ کفیل خان نے کہا،’انہوں نے کہا کہ ایم ایل سی انتخابات کے لیے میں بی ڈی سی اور پردھان کو پیسے بانٹ رہا ہوں اور بوریاں بھر کر اپنی گاڑی میں پیسے لے جا رہا ہوں۔‘ سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ کا نام لیے بغیر ان پر طنز کرتے ہوئے کفیل خان نے کہا،’ان کے گرو نے پانچ سال تک مجھ پر نکیل ڈالنے کی کوشش کی، وہ تو نکیل ڈال نہیں پائے،یہ لوگ تو ان کے شاگرد ہیں۔‘
کفیل خان نے کہا کہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس سے اپنی پارٹی کو آگاہ کر دیا ہے۔ ایس پی نے ڈاکٹر کفیل خان کو دیوریا-کشی نگر سے امیدوار قرار دیا ہے۔ اتر پردیش میں 9 اپریل کو قانون ساز کونسل کے انتخابات ہونے ہیں۔