نو پور شرما کے خلاف بنگال اسمبلی میں مذمتی قرارداد منظور۔
کولکاتا:(ایجنسی)
بی جے پی لیڈر نوپور شرما کے ریمارکس کے خلاف پیر کو مغربی بنگال اسمبلی میں مذمتی قرار داد منظور کی گئی۔ بی جے پی ممبران اسمبلی نے احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
بتا دیں کہ مسلم کمیونٹی نوپور شرما اور نوین جندل کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑکوں پر ہے۔ کئی اپوزیشن سیاسی جماعتوں نے بھی ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اسمبلی میں کہا کہ نوپور شرما کے بیان کے خلاف مظاہروں کے دوران تشدد کے معاملے میں ریاستی حکومت نے کارروائی کی ہے، لیکن نوپور شرما کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ جانتی ہیں کہ نوپور شرما کو گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ نوپور شرما کو 20 جون کو کولکاتا پولیس کے سامنے پیش ہونا تھا لیکن انہوں نے چار ہفتے کا وقت مانگا ہے۔
ممتا نے اسمبلی میں کہا کہ بی جے پی کی سیاست اشتعال انگیزی اور نفرت کی رہی ہے اور وہ بے روزگاری جیسے اہم مسئلہ پر توجہ نہیں دے رہی ہے۔
نوپور شرما کے خلاف مہاراشٹر میں بھی ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور مہاراشٹر پولیس بھی انہیںسمن دینے دہلی گئی تھی۔
اتر پردیش میں پریاگ راج سے لے کر دیوبند، سہارنپور، لکھنؤ تک مسلم کمیونٹی کے لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور نوپور شرما کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
پریاگ راج میں خوب نعرے بازی اور ہنگامہ ہوا۔ اس کے علاوہ بجنور، مرادآباد اور رام پور میں بھی مسلم کمیونٹی کے لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ مغربی بنگال اور رانچی میں بھی زبردست ہنگامہ ہوا۔ بی جے پی رہنماؤں نوپور شرما اور نوین جندل کے تبصروں پر دنیا کے کئی اسلامی ممالک نے بھارت سے احتجاج درج کرایا تھا۔ احتجاج کے بعد بھارتی حکومت نے تبصرہ کرنے والوں کو شرپسندعناصر قرار دیا تھا۔ بی جے پی نے نوین جندل کو 6 سال کے لیے پارٹی سے نکال دیا جبکہ نوپور شرما کو معطل کر دیا گیا۔
ماضی میں نوین جندل اور نوپور شرما کو مسلسل دھمکیاں ملتی رہی ہیں اور اس کے بعد نوپور شرما کو دہلی پولیس نے سیکورٹی فراہم کی ہے۔