مواد ہٹانے کو لے کر ٹوئٹر اور حکومت ہند میں ٹکراؤ، ٹوئٹر کا قانونی چیلنج، اقتدار کے غلط استعمال کا الزام۔
نئی دہلی۔۵؍ جولائی: سماجی رابطے کی معروف ویب سائٹ ٹوئٹر نے حکومت ہند کے احکامات کو قانونی چیلنج کیا ہے۔ پلیٹ فارم سے مواد ہٹانے کے حکم کے خلاف ٹوئٹر عدالت پہنچ گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ٹوئٹر نے کرناٹک ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے معاملے سے منسلک ذرائع نے بتایاکہ ٹوئٹر حکومت ہند کے کچھ احکامات (پلیٹ فارم سے مواد ہٹانےکے) کو پلٹنے کی کوشش کررہا ہے۔ قانونی چیلنج میں ٹوئٹر نے افسران پر اقتدار کا غلط استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ حکومت ہند کے ساتھ بڑھتے ٹکرائو کو دیکھتے ہوئے امریکی سوشل میڈیا کمپنی قانونی ریوو حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ حال ہی میں حکومت نے ٹوئٹر وارننگ دیاتھا کہ آئ ٹی منترالیہ نے احکامات کی ان دیکھی کی وجہ سے ٹوئٹر کے خلاف مجرمانہ کارروائی کی وارننگ دی تھی۔ اس کےلیے ٹوئٹر کو ۴ جولائی تک موقع دیاگیا تھا۔ دراصل وزارت آئی ٹی نے ٹوئٹر سے نئے آئی ٹی رولس کو فالو کرنے کےلیے کہا تھا، حکم نہ ماننے کی حالت میں ٹوئٹر کوانٹرمیڈایٹری فائدے نہیں ملیں گے۔ وزارت نے یہ فیصلہ مسلسل احکامات کی نظر اندازی کی وجہ سے لیا تھا، گزشتہ کچھ وقتوں میں ہندوستانی اتھاریٹیز نے ٹوئٹر سے ہند مخالفت مواد کو پلیٹ فارم سے ہٹانے کےلیے کہا تھا۔ اس میں کچھ اکائونٹس خالصتان کی حمایت کرنے والے ہیں، اس کے علاوہ حکومت نے کووڈ ۱۹ بحران کو لے کر ہند مخالفت اطلاعات پھیلانے والے ٹوئٹس کو ریموو کرنے کے لیے کہا تھا۔ رپورٹس کے مطابق مائیکروبلاکنگ پلیٹ فارم کو حکومت نے ۶ جون سے ۹ جون کو نوٹس بھیجے تھے، اس میں تعاون نہ کرنے کی بات کہی گئی تھی، حکومت نے ٹوئٹر کو نئے آئی ٹی اصولوں کے تحت کام کرنے کےلیے ۴ جولائی تک کا وقت دیا تھا، جو کل پورا ہوگیا ہے، ایسے میں اب ٹوئٹر نے قانونی لڑائی لڑنے کا فیصلہ کیا ہے حالانکہ اس معاملے میں وزارت آئی ٹی کی جانب سے کوئی تبصرہ نہیں کیاگیا ہے۔ واضح رہے کہ ٹوئٹر نے عدالتی سطح پر جائزہ لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے دلیل دی ہے کہ کچھ ریمول آرڈر ہندوستان ے آئی ٹی ایکٹ کے ضابطوں پر کھرے نہیں اترتے ہیں حالانکہ ٹوئٹر نے اس کا واضح طو رپر ذکر نہیں کیا ہے، کہ وہ کس یا کن ریموول آرڈر کی عدالتی سطح پر جائزہ چاہتے ہیں۔ ٹوئٹر نے اس دوران شخصی آزادی کا بھی حوالہ دیا۔