کون تھے، دارالعلوم وقف دیوبند کے استاذ اور معروف مصنف و انشا پرداز مولانا نسیم اختر شاہ قیصر۔
علم و فن کی ممتاز مشہور شخصیت اور اپنے عہد کی تاریخ ساز شخصیت حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری میری کے نبیرہ اور ممتاز قلمکار و ماہنامہ دارالعلوم دیوبند کے سابق مدیر مولانا سید محمد ازہر شاہ قیصر کے فرزند، دارالعلوم وقف دیوبند کے استاذ اور معروف مصنف و انشا پرداز مولاناسید نسیم اختر شاہ قیصر کا آج شام تقریباً چھ بجے انتقال ہوگیا۔ ریڑھ کی ہڈی میں تکلیف کی وجہ سے وہ پچھلے دوماہ سے صاحبِ فراش تھے۔ان کی عمر تقریباً 60سال تھی۔مولانا مرحوم کی پیدایش 25 اگست 1962ء کو دیوبند میں ہوئی،ان کے والد علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری کے فرزندِ اکبر سید محمد ازہر شاہ قیصر تھے۔
انھوں نے تعلیم کی ابتدا دار العلوم دیوبند سے کی، ابتدائی تعلیم کے بعد انھوں نے اسلامیہ ہائی اسکول، دیوبند میں داخلہ لے لیا اور دسویں کا امتحان دیے بغیر 1976ء میں دوبارہ دار العلوم دیوبند میں داخلہ لے کر 1981ء میں درس نظامی کی تعلیم سے فارغ التحصیل ہوئے ۔ اسکولی تعلیم کے دوران 1973ء سے 1975ء تک انھوں نے ادیب، ادیبِ ماہر اور ادیبِ کامل کی ڈگریاں حاصل کیں اور جامعہ دینیات سے 1976ء سے 1978ء کے دوران عالمِ دینیات، ماہرِ دینیات اور فاضلِ دینیات کی سند حاصل کی۔ پھر 1989ء – 1990ء کے دوران ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر یونیورسٹی، آگرہ (آگرہ یونیورسٹی) سے ایم اے اردو کیا۔مولانا1989ء سے تاحال دارالعلوم وقف دیوبند میں  تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے۔
انشا پردازی و تصنیف و تالیف سے انھیں خصوصی شغف تھا، جو انھیں اپنے والد ،ماہنامہ ’دارالعلوم‘ کے مدیر سید ازہر شاہ قیصر سے وراثت میں ملا تھا۔چنانچہ ان کی مضمون نگاری کی ابتدا جنوری 1973ء میں تقریباً 13 سال کی عمر میں ہی ہو گئی، 1979ء سے 1985ء تک پندرہ روزہ اشاعت حق، دیوبند کے نائب مدیر اور 1985ء سے 1996ء تک اس کے مدیرِ اعلیٰ رہے۔ 1983ء میں اپنے والد سید محمد ازہر شاہ قیصر کی سرپرستی میں ماہنامہ طیب، دیوبند کے سب ایڈیٹر (معاون مدیر) ہوئے؛ بالآخر 1987ء میں جب ماہنامہ طیب بند ہونے لگا تو اپنے سابقہ پندرہ روزہ اشاعت پر توجہ دی۔ایک عرصے تک ماہنامہ ندائے دار العلوم کی مجلسِ ادارت کے رکن رہے۔ اس کے علاوہ تقریباً چالیس سال سے ملک بھر کے پچاسوں ماہانہ، پندرہ روزہ اور ہفت روزہ رسائل و جرائد اور روزناموں میں ان کے مضامین شائع ہوتے رہے ۔سوانح نویسی و خاکہ نگاری ان کا پسندیدہ موضوع تھا؛ چنانچہ انھوں نے سیکڑوں علمی،ادبی،دینی و سیاسی شخصیات پر مضامین تحریر کیے جو کتابی شکل میں بھی شائع ہوئے،ان کی تصانیف کی تعداد تقریباً دو درجن ہے۔پچھلے سال اکتوبر میں بہ یک وقت ان کی سات کتابوں کا اجرا ہوا تھا۔ مولانا کا اسلوب بہت شگفتہ،سلیس اور دلچسپ تھا،ذاتی زندگی میں بھی مولانا بہت شستہ رو،ملنسار اور حسن اخلاق سے لیس تھے۔انھوں نے دیوبند میں طلبہ کو مضمون نویسی و انشا پردازی کی تربیت دینے کے لئے "مرکز نوائے قلم"کے نام سے ایک ادارہ بھی شروع کیا تھا، جس کے ذریعے سینکڑوں طلبہ نے تحریر و تصنیف کی تربیت حاصل کی۔