ندوۃ العلماء کے پیغام کو عام کرنا وقت کی اہم ضرورت، ابنائے قدیم ندوہ کا تیسرا سالانہ اجلاس، اہم امور پر گفت وشنید۔
لکھنؤ : دارالعلوم ندوۃ العلماء سے ہر سال طلبہ فارغ ہوتے ہیں لیکن دسمبر ۱۹۹۸ء کے بیچ نے فارغین کو ایکدوسرے سے مستقل مربوط رکھنے کیلئے ساتھیوں کو ایک پلیٹ فارم پرجمع کرنے کی کوشش کی اور باقاعدہ دسمبر ۲۰۱۸ء میں اس کیلئے ایک گروپ تشکیل دیا گیا، جس کے بانی ڈاکٹر محمد وقارالدین لطیفی ہیں اس کے بعد ایک سلسلہ چل پڑا اور دوسروں کو ترغیب ملی۔ اس کارواں کا تیسرا سالانہ عظیم الشان اجلاس مدرسۃ الحرم رحمان خیرہ ہردوئی روڈ لکھنؤ میں ۲۶؍اکتوبر ۲۰۲۲ء کو منعقد ہوا، جس میں ملک کے مختلف صوبوں سے رفقاء نے شرکت کی اور اپنے بچھڑے ساتھیوں سے ملاقات کر کے اظہار مسرت کیا، بعض احباب بیرون ہند سے بھی صرف اسی پروگرام میں شرکت کی غرض سے تشریف لائے۔اس اجلاس کی چار نشستیں ہوئیں، اس کارواں کے صدر امام عیدگاہ قاضی شہر لکھنؤ مولانا خالد رشید فرنگی محلی ہیں اور جنرل سکریٹری بانی مدرسۃ الحرم لکھنؤ مولانا نجیب الحسن صدیقی ندوی ہیں، ان کی سرکردگی میں یہ اجلاس کامیابی سے ہمکنار ہوا، اس میں پچاس سے زائد اصحاب نے شرکت کی۔ پہلی نشست میں کارواں کے جنرل سکریٹری مولانا نجیب الحسن صدیقی صاحب نے جنرل سکریٹری رپورٹ پیش کی جس میں کارواں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا اور آئندہ کے لئے لائحہ عمل پیش کیا۔آخری نشست میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے ندوۃ العلماء کے رکن انتظامیہ و چیف ایڈیٹر پندرہ روزہ الرائد حضرت مولانا سید جعفر مسعود حسنی ندوی صاحب شریک ہوئے، انہوں نے اپنے پرمغز خطاب میں فرمایا کہ ’’تحقیق اور صبر کا مزاج بنائیے اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کیجئے، ہوا ہوائی باتوں پر توجہ دینے سے قبل اس کی تحقیق کرنے کی عادت ڈالیں، انتشار و اختلاف سے خود کو دور رکھیں اور دوسروں کو دور رہنے کی تلقین کریں،اللہ سے اپنا رشتہ مضبوط کریں، دین پر ثابت قدم رہیں، مادرعلمی کے پیغام کو پھیلائیں، اس کی ترقی میں معاون بنیں، تعلیم کو فروغ دینے کا مزاج بنائیں، اپنے ادارے قائم کریں اور آنے والی نسلوں کی صحیح تربیت کریں۔‘‘مہمان خصوصی کے خطاب کے بعد احباب نے جنرل سکریٹری رپورٹ پر اظہار خیال کیا اور اپنے تأثرات پیش کئے اجلاس نے اتفاق رائے سے حسب ذیل تجاویز منظور کیں:(۱)مادرعلمی کا دفاع اور تحفظ نیز مادر علمی کا ہر طرح سے تعاون کرنا تمام ندوی فضلاء کا فریضہ ہے اس لئے فارغین ندوہ دسمبر ۱۹۹۸ء نے آج کے اجلاس میں اپنی سابقہ تجویز کا اعادہ کرتے ہوئے یہ طے کیا کہ: ہم لوگ ہرطرح سے مادر علمی کا دفاع کریں گے، اس کی حفاظت کے لئے ہرممکن کوشش کریں گے، نیز دامے درمے سخنے مادر علمی کا تعاون کرنے میں کوئی دریغ نہیں کریںگے، ندوہ کے پیغام کو ہرپلیٹ فارم سے پہنچانے کی کوشش کریں گے، پوری ملت کو اتحاد واتفاق کے، ساتھ زندگی گزارنے کا درس دیں ، مادر علمی کی نیک نامی کا خیال رکھیں گے اس کی اٹھان اور ترقی کے لئے ہم اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں گے اور اس کی نصرت و خیرخواہی کے لئے دوسروں کو بھی ترغیب دیں گے۔(۲)ملک کے موجودہ حالات نہایت نازک ہیں اور اس بات کے متقاضی ہیں کہ مسلمانانِ ہند پوری فراست اور حکمت ومصلحت کے ساتھ موجودہ چیلنجوں کا مقابلہ کریں، اپنی قیادت پر اعتماد کریں اور مکمل اتحاد و تعاون کے ساتھ مسائل کا سامنا کریں، ہمیں کسی بھی حال میں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ کی ذات پر ایمان کو تازہ کریں، آئندہ نسلوں کی حفاظت کے سلسلہ میں پوری فکرمندی کا ثبوت فراہم کریں اور تعلیم کے سلسلہ میں ملت کے اندر بیداری پیدا کریں۔