کرناٹک میں حلال گوشت کے بائیکاٹ کی ہندو تنظیموں کی مہم، دیوالی اور دیگر تیوہاروں کے دوران بائیکاٹ جاری رہےگا: ہندو جن جاگرتی کا اعلان۔
بنگلورور: ہندو تنظیموں نے کرناٹک میں حلال گوشت کے خلاف مہم شروع کردی۔ تہواری موسم سے پیشتر کئی ہندو گروپس مہم کا آغاز کرتے ہوئے عوام سے حلال گوشت اور اس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کررہے ہیں۔ ہندو جن جاگرتی کمیٹی کے ترجمان موہن گوڑا نے اعلان کیا کہ حلال کے خلاف مہم دیوالی اور دیگر تہواروں کے دوران جاری رہے گی۔ ہندو جن جاگرتی کمیٹی نے 16/ اکتوبر کو مخالف حلال کنونشن منعقد کیا اور عوام سے روشنیوں کے تہوار کے دوران حلال مصنوعات نہ خریدنے کی اپیل کی۔ اس مہم کا نوٹ لیتے ہوئے کرناٹک پولیس نے احتیاطی اقدامات کیے اور نظم وضبط کی برقراری کے لیے پوری ریاست میں سخت چوکسی کو یقینی بنایا ہے۔ اس سال کے اوائل میں بجرنگ دل، ہندو جن جاگرتی سمیتی اور سری رام سینا اور دیگر چند دائیں بازو کے گروپس نے کرناٹک کے عوام سے گوشت کی دکانات پر حلال کی تصدیق کرنے والے سائن بورڈس ہٹانے کی اپیل کی تھی۔ بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری سی ٹی روی نے کہا تھا کہ حلال گوشت مسلم برداری کی جانب سے ”اقتصادی جہاد“ کا حصہ ہے۔ روی نے کہا تھا کہ حلال اقتصادی جہاد ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اسے جہاد کی طرح استعمال کیا جاتا ہے تا کہ مسلمان دیگر لوگوں کے ساتھ کاروبار نہ کرسکیں۔ اسے مسلط کیا گیا۔ جب وہ سوچتے ہیں کہ حلال گوشت استعمال کیا جانا چاہیے تو اسے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے، کہنے میں غلط کیا ہے؟حلال گوشت پر امتناع کی وکالت کرتے ہوئے بی جے پی لیڈر نے کہا تھا کہ تجارتی روایات ایک طرفہ نہیں ہوسکتیں اور اگر مسلمان غیرحلال گوشت کھانے کے لے تیار ہوتے ہیں تو یہ لوگ (ہندو) بھی حلال گوشت استعمال کریں گے۔“