سلطان پور میں درگا مورتی وسرجن کے دوران ہوئی جھڑپ، میں اب تک ۳۲؍گرفتار، علاقے میں پی اے سی تعینات، کرفیو نافذ، ابرہیم پور میں خواتین کا احتجاج۔
سلطان پور: پولیس نے یہاں پیر کے دن درگا مورتی وسرجن جلوس کے دوران ہوئی جھڑپوں کے سلسلہ میں ۳۲ افراد کو حراست میں لے لیا ہے، عہدیدار نے یہ بتائی۔ ضلع انتظامیہ نے 5 افراد کو نوٹسیں جاری کی۔ اُن سے پوچھا گیا کہ غیر مجاز قبضوں کو ہٹا دیا جائے اور نقصانات کی تلافی کی جائے۔کم از کم۶ ‘افراد بشمول ایک پولیس ملازم جھڑپوں کے دوران زخمی ہوگیا، جب دوطبقوں کے درمیان درگا مورتی وسرجن جلوس کے دوران میوزک چلانے پر جھڑپیں شروع ہوئی تھیں، ریلی میں شریک شرپسند ترنگا کے علاوہ ہاتھوں میں تلوار اور دیگر اسلحہ لیے ہوئے تھے۔یہ واقعہ بلدی رائے علاقہ میں پیر کی شام پیش آیا تھا۔دونوں طبقوں نے ایک دوسرے پر سنگباری کی،آتشزنی کی واردات بھی پیش آئی، ایک فریق کا الزام ہے کہ جیسے تیسے معاملہ رفع دفع ہوگیا تھا لیکن دوسرا فریق رات کے اندھیرے میں مشتعل ہوگیا اور کئی گھروں میں آگ لگادی۔ شرپسندوں نے مسجد کوبھی نقصان پہنچایا، مسلمانوں کی دکانوں اور ابراہیم پور کے مدرسے میں توڑ پھوڑ کی گئی ، طلبہ کے ساتھ مارپیٹ ہوئی۔پولس یک طرفہ طور پر صرف مسلمانوں کو گرفتار کررہی ہے۔ انصاف قائم کرنے کے بجائے وہاں کے ایس او امریندر سنگھ نے عوامی بھیڑ کو مشتعل کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم ان کو چن چن کر ماریں گے ، ان کے مکانوں کو توڑدیں گے ‘‘۔ اس کا یہ بیان ویڈیو کی شکل میں وائرل ہورہا ہے۔ اس نے جو کچھ بھی کہا ہے، اب اسے عملی جامہ پہنایا جارہا ہے، مدرسہ سمیت جن پانچ لوگوں کو غیر قانونی طور سے قبضہ کا نوٹس ملا ہے ، ان میں چار مسلمان ہیں، ایک یادو ہے۔ جو گرفتار ہوئے ہیں وہ سب مسلمان ہیں، اتنا ہی نہیں بلکہ کورٹ کے احاطے میں وکیلوں نے گرفتار شدگان مسلمانوں کے ساتھ مارپیٹ کی۔ 
دریں اثناء عہدیدار نے بتایا کہ ایسے لوگ جن سے کہا گیا تھا کہ ناجائز قبضوں کو ہٹا دیا جائے اور نقصان کی ادائیگی کی جائے، جن میں ایک اختر، عظیم الدین، سری رام یادو، شمس الدین اور مقامی مدرسہ کے منیجر بھی شامل ہے۔اِن تمام سے کہا گیا کہ تین یوم کے اندر نوٹس کا جواب داخل کریں۔ اختر سے کہا گیا کہ وہ اپنے مکان کے سامنے ناجائز قبضہ کو ہٹا دے اور ایک 1.75 لاکھ روپے نقصان کا معاوضہ ادا کریں۔ منیجر جمعیت القاری مدرسہ سے کہا گیا کہ وہ 2.2 لاکھ نقصانات کا معاوضہ ادا کرے۔ عظیم الدین کو 2.16 لاکھ اور شمس الدین کو 2.79 لاکھ اور سری رام یادو کو 1.12 لاکھ معاوضہ ادا کرنے کے لئے کہا گیا۔اِس اقدام کے بعد مقامی علماء کے ایک وفد نے ضلع مجسٹریٹ روش گپتا سے ملاقات کی اور الزام عائد کیا کہ یہ کارروائی صرف ایک طبقہ سے تعلق رکھنے والے ارکان کے خلاف کی گئی ہے۔میٹنگ کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا قاسم نے کہا کہ یہ واقعہ شرمناک ہے۔ اِس کا کوئی مطلب نہیں کہ اِس کا آغاز کس نے کیا۔ اگر دوطبقے کے لوگ اِس میں ملوث ہیں تو دونوں قصور وار ہیں کوئی ایک نہیں۔بتایاجارہا ہے کہ ابراہیم پور گائوں چھائونی میں تبدیل ہے، پی اے سی کے جوان تعینات ہیں، ان کی پرواہ کیے بغیر جمعرات کو خواتین سڑکوں پر اتر آئیں، خواتین نے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں بھوکے مت مارو، احتجاج کررہی  خواتین کی گود میں شیر خوار بچے بھی تھے۔ خواتین کا کہنا تھا کہ ہمیں گائوں سے نہیں نکلنے دیاجارہا ہے، پولس لاٹھی چارج کررہی ہے، بچے بھوکے مرر رہے ہیں، ہم لوگ بھوکے مررہے ہیں۔ دریں اثنا جمعیۃ علماء ہند کے ایک وفد نے صدر جمعیۃ علماء ضـلع سلطان پور مولانا مطہر الاسلام کی قیادت میں ضلع پولس کمشنر اور کپتان سے ملاقات کرکے ایک میمورنڈم پیش کیا اور یک طرفہ کارروائی پر سوال اٹھایا۔