ورن اور جاتی کا نظام بھول جانا چاہیے: موہن بھاگوت۔
ناگپور: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا ہے کہ ورن اور ذات پات کے نظام کو اب بھول جانا چاہیے۔ موہن بھاگوت نے جمعہ کو ناگپور میں منعقدہ ایک کتاب کی ریلیز پروگرام میں یہ بات کہی۔ سنگھ کے سربراہ نے کہا کہ اب ذات پات کے نظام کی سماج میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ڈاکٹر مدن کلکرنی اور ڈاکٹر رینوکا بوکارے کی کتاب وجرالستی ٹنک کا حوالہ دیتے ہوئے سنگھ کے سربراہ نے کہا کہ سماجی مساوات ہندوستانی روایت کا حصہ تھی لیکن اسے بھلا دیا گیا اور اس کے بہت نقصان دہ نتائج برآمد ہوئے۔سنگھ کے سربراہ نے کہا کہ بنیادی طور پر ورن اور ذات پات کے نظام میں کوئی امتیاز نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج اگر کوئی اس پر بات کرتا ہے تو سماج کے مفاد میں سوچنے والوں کو بتانا چاہئے کہ ورن اور ذات پات ماضی کی بات ہے اور اب اسے بھول جانا چاہئے۔ بھاگوت نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہر وہ چیز جو امتیاز پیدا کرتی ہے اسے ختم کر دینا چاہیے۔سنگھ کے سربراہ نے کہا کہ ورن اور ذات پات کی وجہ سے سماجی تفاوت پھیلتا ہے، لیکن آج اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ورن اور جاتی کا کیا تعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج سماجی مفکرین کو ذہن سازی کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ نظام بہت پیچیدہ ہے اور اسے ختم کیا جانا چاہیے۔