دربھنگہ: ریاست بہار کے دربھنگہ میونسپل کارپوریشن میں میئر، ڈپٹی میئر اور وارڈ کونسلروں کے انتخابات کے نتائج کافی چونکا دینے والا رہا جس میں ایک طرف نتیش حکومت میں سماجی بہبود کے وزیر مدن سہنی کی بھابھی یمنا دیوی کو دربھنگہ میونسپل کارپوریشن میں ڈپٹی میئر کے انتخاب میں بڑے فرق سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ انتخابی دوڑ میں کہیں نظر بھی نہیں آئیں۔
تو دوسری طرف دربھنگہ بلدیاتی انتخابات میں نازیہ حسن نے 3844 ووٹوں سے ڈپٹی میئر کے عہدے پر کامیابی حاصل کی۔ جب کہ انجم آرا نے دربھنگہ نگر نگم میئر کا عہدہ دھرم شیلا گپتا کو 8734 ووٹوں سے شکست دے کر فتح کر لیا۔ ڈپٹی میئر نازیہ حسن نے 31927 ووٹ حاصل کیں۔ انہوں نے اپنی قریبی حریف ارچنا جھا کو 3,844 ووٹوں سے شکست دی۔ ارچنا جھا کو کل 28083 ووٹ ملے۔واضح رہے کہ دربھنگہ میونسپل کارپوریشن کے میئر، ڈپٹی میئر اور وارڈ کونسلروں کے عہدوں کے لیے 28 دسمبر کو ووٹنگ ہوئی تھی۔ اس کا نتیجہ 30 دسمبر جمعہ کے روز جاری کیا گیا۔ دربھنگہ میونسپل کارپوریشن میں کل 48 وارڈ ہیں، جن میں کل 14 مسلم وارڈ کونسلروں نے کامیابی حاصل کی ہے۔ دربھنگہ میونسپل کارپوریشن کے 14 وارڈوں میں کامیاب مسلم امیدوار کچھ اس طرح سے ہیں۔ وارڈ 01 سے تبسم خاتون، وارڈ نمبر20 سے نصرت پروین، وارڈ،24، وارڈ نمبر سے 25 فیروز عالم، وارڈ 29 سے شبانہ خانم، وارڈ نمبر 30 سے زینت پروین، وارڈ نمبر31 سے نفیس الحق، وارڈ نمبر 32 سے نکھت پروین، وارڈ نمبر 33 سے عشرت جہاں، وارڈ نمبر 36 سے فردوس جہاں، وارڈ نمبر 37 سے ریاضت علی، وارڈ نمبر 38 سے نزہت پروین، وارڈ نمبر 39 سے شہناز پروین، وارڈ نمبر43 سے نثار عالم شامل ہیں۔دوسری جانب اپنی جیت کے بعد میئر کا عہدہ حاصل کرنے والی دربھنگہ کی پہلی مسلم خاتون انجم آرا نے کہا کہ ہم تمام طبقوں کو ساتھ لے کر چلیں گے، میں عوام کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ انہوں نے مجھے اس عہدے پر اپنا ووٹ دے کر کامیاب کیا۔ اس بار حکومت نے عوام کے ذریعے میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخاب کا فیصلہ کر کے ایک اچھا فیصلہ کیا۔ اس سے عوام کو اپنا میئر منتخب کرنے کی آزادی ملی۔ ان کا پہلا کام دربھنگہ شہر میں آبی وسائل (جل نکاسی ) کے مسئلے کو ٹھیک کرنا اور اپنی ذمہ داری کو بخوبی نبھانا ہے۔