سوپول: تعلیم ہمارا بنیادی حق ہے، ہمیں مالی مشکلات کی وجہ سے اعلی تعلیم کے حصول میں جو بھی دشواریاں آرہی ہیں اسے سمجھنے اور سمجھانے کی ضرورت ہے اگر ہم سب اس تعلیمی تحریک کو اپنا مشن بنالیا تو ہمارے سماج کا کوئی بھی پڑھنے والا بچہ اعلی تعلیم سے محروم نہیں رہ سکے گا۔
ان خیالات کا اظہار روز مائن ایجوکیشنل اینڈ چیریٹیبل ٹرسٹ پٹنہ کے ڈائریکٹر اور مشہور ماہر تعلیم اویس عمبر نے گزشتہ روز منت فاونڈیشن سوپول میں منعقدہ ایک اہم تعلیمی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ آج ہمارے ملک میں تعلیمی نظام کی جو حالت ہے اس سے ہم سب بخوبی واقف ہیں، تعلیمی مافیاؤں نے لاکھوں بچوں کا مستقل برباد کردیا ہے اس سسٹم کو سدھارنے اور اعلی تعلیم کے خواہش مند طلباء وطالبات کی صحیح رہنمائی و رہبری کی سخت ضرورت ہے۔ ہماری ٹیم پورے ملک میں ایسے بچوں کی تلاش کرتی ہے جو اعلی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن کسی مجبوری کی وجہ سے وہ مجبور ہیں ہم ان بچوں کیلئے ایک پل کی طرح ہیں تاکہ انہیں اپنی منزل تک پہنچنے میں آسانی ہوجائے یہی ہمارا کام اور مشن ہے سوپول ضلع کے جو حضرات اس کام کو سمجھ کر ایسے بچوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں وہ ضرور ہمارے ساتھ آئیں اور اس عظیم تعلیمی تحریک کو آگے بڑھائیں۔ مسٹر اویس عمبر نے منت فاونڈیشن کے سرپرست حاجی احسان الحق کادلی شکریہ اداکرتے ہوئے کہاکہ اس مشن کو سوپول میں آگے بڑھاتے ہوئے اگلے سال 2023میں 22جنوری کو ہم یہاں ایک عظیم الشان تعلیمی میلہ منعقدکرنے جارہے ہیں جہاں بلا تفریق مذہب ہمارے بچے آکر اس تعلیمی نظام کو سمجھ سکتے ہیں اور اپنے مستقل کو سنوار سکتے ہیں۔حاضرین نے اپنی نویت کے اس انوکھے اور دلچسپ تعلیمی تحریک کو پسند کرتے ہوئے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا اور کہاکہ ہم سب اس تعلیمی مشن سے جڑکر ضلع سوپول میں اس تعلیمی پیغام کو گھر گھر تک پہنچائیں گے۔
پروگرام کی صدارت حاجی احسان الحق نے کیا جبکہ نظامت کے فرائض وژن انٹرنیشنل اسکول سہرسہ کے ڈائریکٹر شاہنواز بدر قاسمی نے بحسن وخوبی انجام دیا۔اس موقع پر منت فاونڈیشن کے صدر جمال الدین، حاجی عبدالستار، مکھیا نعیم، مولانا شفیق الرحمن، کمال الدین، راجا انصاری، جاوید اسلم، ضیاء الرحمن، شکیل احمد، مفتی نہال احمد، قاضی شریعت سوپول مفتی ابوالقاسم رحمانی، مولانا سیلم ندوی، مکھیا عطاء الرحمن،قاری رضوان، مولانا نظام الدین، یاسراحسان سمیت ضلع کے درجنوں ذمہ داران اور تعلیمی میدان سے وابستہ اہم شخصیات موجود رہے۔