نئی دہلی: کانگریس پارٹی کے رہنما راہل گاندھی کی سکیورٹی کے معاملے میں ایک نیا موڑ آیا ہے۔ اس معاملے پر سی آر پی ایف نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایسا کئی بار ہوا ہے کہ راہل گاندھی نے حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ وزارت داخلہ کو جواب دیتے ہوئے سی آر پی ایف نے کہا کہ راہل گاندھی نے 2020 سے اب تک 113 مرتبہ سکیورٹی اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ سی آر پی ایف کے مطابق بھارت جوڑو یاترا کے دوران بھی ایسا کئی بار ہوا ہے۔ واضح رہے کہ کانگریس نے راہل گاندھی کی سکیورٹی میں کوتاہی پر وزارت داخلہ کو خط لکھا تھا۔اس کے ساتھ ہی سی آر پی ایف نے کانگریس کے الزامات پر وزارت داخلہ کو بتایا کہ رہنما خطوط کے مطابق راہل گاندھی کی حفاظت کا انتظام کیا گیا تھا۔ سی آر پی ایف کے مطابق یاترا میں شامل ہونے والے شخص کی حفاظت ریاستی پولیس کے ساتھ مل کر سی آر پی ایف کی ذمہ داری ہے۔ خطرے کی تشخیص کی بنیاد پر وزارت داخلہ کی طرف سے ریاستی حکومتوں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایڈوائزری جاری کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ کل کانگریس نے وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھا تھا، جس میں پارٹی رہنما راہل گاندھی کے بھارت جوڑو یاترا کے دوران ان کے دہلی پہنچنے پر سیکورٹی میں لاپروہی برتے جانے کی انکوائری کرانے کی درخواست کی تھی۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے امت شاہ کو لکھے خط میں کہا ہے کہ راہل گاندھی کے پاس زیڈ پلس سیکورٹی ہے اور بھارت جوڑو یاترا جب دہلی پہنچی تو ان کی سیکورٹی میں غفلت برتی گئی جس سے بہت سے نامعلوم لوگ ان سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔انہوں نے کہا کہ جب سیکورٹی کے اصولوں کی خلاف ورزی کی جا رہی تھی، اس وقت دہلی پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔ ۔ ہریانہ میں بھی راہل گاندھی کی سیکورٹی میں کوتاہی ہوئی ہے اور پارٹی نے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ وینوگوپال نے کہا کہ زیڈ پلس سیکورٹی والے شخص کی سیکورٹی میں کوتاہی ایک سنگین معاملہ ہے۔ بھارت جوڑو یاترا اب اگلے دور میں پنجاب اور جموں کشمیر جیسی حساس ریاستوں تک پہنچ رہی ہے، اس لیے سیکورٹی کی خامیوں کی جانچ ہونی چاہیے تاکہ آئندہ اس طرح کی کوتاہیاں نہ ہوں۔