کٹھوعہ: جموں و کشمیر میں سخت سردی اور بارش کے درمیان کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے جمعہ کو سرحدی ضلع کٹھوعہ کے ہٹلی موڑ سے اپنی بھارت جوڑو یاترا شروع کی۔ پیدل یاترا میں شیوسینا کے لیڈر سنجے راوت سمیت کئی سرکردہ لیڈر بھی شامل ہوئے۔ راہل گاندھی نے سفید ٹی شرٹ پر سیاہ برساتی کوٹ پہن رکھا تھا۔یاترا صبح سات بجے شروع ہونا تھی لیکن خراب موسم کی وجہ سے ایک گھنٹہ پندرہ منٹ کی تاخیر ہوئی۔۷ستمبر کو کنیا کماری سے شروع ہونے والی بھارت جوڑو یاترا جمعرات کی شام پنجاب سے جموں و کشمیر میں داخل ہوئی اور ۳۰جنوری کو سری نگر میں اختتام پذیر ہو گی۔ کانگریس کے ریاستی صدر وقار رسول وانی، جی اے میر سمیت کانگریس کے کئی رہنما بھارت جوڑو یاترا کے آخری مرحلے کے دوران گاندھی کے ساتھ تھے۔شیوسینا کے رہنما سنجے راوت نے کہا کہ میں اپنی پارٹی کی طرف سے یاترا میں شامل ہونے آیا ہوں۔ ملک کا ماحول تیزی سے بدل رہا ہے اور میں راہل گاندھی کو ایک ایسے رہنما کے طور پر دیکھ رہا ہوں جو حقیقی مسائل پر اپنی آواز اٹھا رہے ہیں۔ لوگ جس طرح سے اس یاترا کے ساتھ جڑ رہے ہیں، وہ دل کو چھونے والا ہے۔ وہ ایک لیڈر ہیں اور اسی وجہ سے وہ سڑکوں پر ہے۔ عوام اب انتخاب کرے گی کہ اُن کا لیڈر کون ہونا چاہیے۔کانگریس نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر راہل گاندھی اور سنجے رائوت کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’نیت ہو نیک اور ارادے ہوں صاف تو چہرے پر یوں تیرتی ہیں مسکان‘‘۔ قبل ازیں یاترا جمعرات کو لکھن پور سے ہوتے ہوئے جموں و کشمیر میں داخل ہوئی اور پرچم حوالے کرنے کی تقریب کے بعد رات کے لیے وہاں رکی جس میں نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ سمیت سرکردہ لیڈروں کی ایک کہکشاں نے شرکت کی۔ پولیس اور سی آر پی ایف کے اہلکاروں پر مشتمل ایک سخت حفاظتی دستہ راہل گاندھی کے ارد گرد تعینات کیا گیا ہے۔ وہ جمعہ کی صبح سے جموں و کشمیر کے وسیع حصوں میں ہونے والی بارش کے باوجود اپنے حامیوں کے ساتھ چلنے لگے۔ کانگریس کے بہت سے کارکنان اور حامی ترنگا لے کر یاترا کے آغاز سے چند گھنٹے پہلے ہی نکل آئے۔ یاترا کٹھوعہ ضلع کے چڈوال میں رات کے قیام سے پہلے 25 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرے گی اور ہفتہ کو یاترا کا بریک ہوگا۔ اس دوران پلے کارڈز اور ہار اٹھائے نوجوان جموں-پٹھانکوٹ قومی شاہراہ کے ساتھ مختلف مقامات پر انتظار کرتے ہوئے دیکھے گئے جہاں سے یاترا گزرنے والی ہے۔