بنگلورو: رناٹک حکومت کے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کے حکم کے بعد اب بڑی تعداد میں مسلم طلباء سرکاری کالجوں کے بجائے پرائیویٹ کالجوں میں چلے گئے ہیں۔ انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس نے اعداد و شمار کے حوالے سے یہ خصوصی رپورٹ شائع کی ہے۔ اس کے مطابق کرناٹک کے اُڈپی ضلع کے سرکاری کالجوں میں داخلہ لینے والے مسلم طلباء کی تعداد جو گزشتہ سال حجاب تنازعہ کا مرکز تھا، ایک سال کے اندر اندر نصف سے بھی کم رہ گئی ہے۔حجاب تنازعہ پر کرناٹک ہائی کورٹ کی طرف سے دیے گئے فیصلے کا کہیں بھی اثر ہو یا نہ ہولیکن اڈپی ضلع میں اس کا خاصا اثر ہوا۔ یہاں کے مسلم طلبہ میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ حجاب سے متعلق عدالتی حکم کے بعد سرکاری کالجوں میں اقلیتی طلبہ کی تعداد میں 50 فیصد سے زائد کمی آئی ہے۔ لوگ پرائیویٹ پی یو سی میں شفٹ ہونے لگے۔ یہ انکشاف ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سال 2021-22 کے درمیان کل 1,296 بچوں نے کلاس گیارہویں (جسے کرناٹک میں پری یونیورسٹی کالجپی یو سی بھی کہا جاتا ہے) میں داخلہ لیا۔ 2022-23 میں بھی یہ تعداد 1,320 رہی۔ تاہم، سرکاری کالجوں میں، سال 2021-22 میں 388 مسلم طلباء نے کلاس الیون میں داخلہ لیا تھا، جو سیشن 2022-23 میں کم ہو کر 186 رہ گیا تھا۔رپورٹ کے مطابق موجودہ سیشن میں صرف 91 مسلم لڑکیوں نے ہی سرکاری کالجوں کا رخ کیا، جب کہ 2021-22 کے سیشن میں یہ تعداد 178 تھی۔ اس کے ساتھ ہی سرکاری کالجوں میں داخلہ لینے والے مسلم لڑکوں کی تعداد بھی 210 سے گھٹ کر 95 رہ گئی۔دوسری طرف اگر ہم صنف کی بات کریں تو یہ اعداد و شمار اور بھی چونکا دینے والے ہیں۔ پچھلے سال (2021-22) کے 178 کے مقابلے اس سال (2022-23) صرف 91 مسلم لڑکیوں نے ہی سرکاری کالجوں میں داخلہ لیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ لڑکوں کی تعداد میں بھی کمی درج کی گئی ہے۔ پچھلے سیشن میں یہ تعداد 210 تھی جبکہ اس سیشن میں صرف 95 تھی۔ اس کے ساتھ ہی تمام مسلم طلباء پرائیویٹ کالجوں میں داخلہ لے رہے ہیں۔اس سال 927 طلباء نے پرائیویٹ کالجوں میں داخلہ لیا ہے۔ جبکہ گزشتہ سال صرف 662 مسلم طلباء نے پرائیویٹ کالجوں میں داخلہ لیا تھا۔ اس کے علاوہ پرائیویٹ کالجوں میں مسلم لڑکوں اور لڑکیوں کے داخلے میں تیزی آئی ہے۔ گزشتہ سال 334 کے مقابلے اس سال 440 لڑکوں نے پرائیویٹ کالجوں میں داخلہ لیا۔ دوسری طرف اگر ہم لڑکیوں کی بات کریں تو گزشتہ سال 328 نے پرائیویٹ کالجوں میں داخلہ لیا تھا جبکہ اس سال 487 مسلم لڑکیوں نے پرائیویٹ کالجوں میں داخلہ لیا ہے۔کرناٹک میں حجاب کے تنازع کا معاملہ 31 دسمبر 2021 کو اڈپی سے شروع ہوا تھا۔ یہاں کے گورنمنٹ پی یو کالج میں حجاب پہن کر آنے والی 6 طالبات کو کلاس میں جانے سے روک دیا گیا۔ اس کے بعد کالج کے باہر احتجاج شروع ہوا اور معاملہ روشنی میں آگیا۔ طالبات نے کہا تھا کہ وہ صرف حجاب پہن کر اسکول آئیں گی، لیکن اسکول انتظامیہ ایسا کرنے سے انکار کررہی ہے۔ کئی دنوں کے احتجاج کے بعد معاملہ ہائی کورٹ پہنچا۔ کئی دن کی سماعت کے بعد عدالت نے فیصلہ سنا دیا۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ حجاب مذہبی طور پر لازمی نہیں، اس لیے اسے تعلیمی اداروں میں نہیں پہنا جا سکتا۔ عدالت نے حکومت کو احکامات جاری کرنے کا حق بھی دے دیا۔