چنئی: (پریس ریلیز) آج آپ تاریخ کی اس نازک گھڑی میں ملت اسلامیہ ہندیہ کے روشن مستقبل پر غور وخوض کرنے اور کچھ اہم فیصلے لینے کیلئے جمع ہوئے ہیں، اس وقت ملک وملت بہت سے خطرات ومصائب اور بہت تشویشناک حالات سے دوچار ہے لیکن ایسے حالات صدیوں کی مدت کے الٹ پھیر سے پیدا ہوتے رہتے ہیں جن سے ہم جوجھ رہے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار آل انڈیا ملی کونسل کے بائیسویں عمومی اجلاس کے افتتاحی سیشن میں خطاب کرتے ہوئے کونسل کے قومی صدر مولانا عبد اللہ مغیثی نے اپنے خطبہ صدارت میں کیا۔ انہوں نے مزید کہاکہ آج پوری دنیا مذہب اسلام کے خلاف متحدہوچکی ہے ۔ ہندوستان میں مسلمانوں کا ملی تشخص مٹانے کی کوشش ہورہی ہے، تفرقہ بازی کا ایسا بیج بودیاگیاہے جس سے باہمی نفرت اور تعصب کا ماحول پیدا ہوگیا، اقلیتوں میں خوف وہراس اور اپنے حقوق کی پامالی کا احساس بڑھتا جارہاہے لیکن ہمیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ مثبت جدو جہد کرنی چاہیے، خداتعالی سے رشتہ مضبو کرنا چاہیے اور ملی کونسل قوم وملت کو درپیش مسائل کے حل کیلئے ہمیشہ سرگرم عمل رہتی ہے اور آج بھی ہے۔ 
اس موقع پر کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہاکہ ہندوستان کے موجودہ حالات میں ملت کی ایک اہم تنظیم ہونے کی حیثیت سے ہم لوگوں کا یہاں جمع ہونا بہت اہمیت رکھتاہے ، آج کے حالات میں جب تمام اقلیتوں اور خاص کر مسلمانوں کو مختلف مسائل میں الجھاکر اصل مسائل سے دور رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے ہمارا یہاں جمع ہونا اور اپنے اصل مسائل کے حل کی سعی وکوشش کرنا بلاشبہ عزم وحوصلے کا کام ہے اور حکمت ودانائی کا بھی ۔ انہوں نے اپنے خطاب میں چار نکات کی طرف توجہ دلائی جس کی تائید حاضرین اور کونسل کے اراکین نے بھی کی ۔ ڈاکٹر منظور عالم نے کہاکہ برادراطن سے معاشرہ کی ہر سطح پر ملاقات کا سلسلہ شروع کیا جائے ، خاص طور پر چاروں شنکر آچاریہ اور دوسرے بڑے ہندو مذہبی رہنماؤں سے ملاقت ہو ۔یہ ملاقاتیں بند کمرے میں نہ ہوں بلکہ کھلے عام ہوں اور اس اعلان کے ساتھ ہو کہ ہم ملک میں امن وامان کی فضاءبحال کرنے کیلئے یہ کررہے ہیں ۔دوسرا اہم کام یہ کیا جائے کہ ملک کے دستور اور آئین پر بھروسہ کرتے ہوئے مضبوطی کے ساتھ اپنے مسائل کے حل کیلئے عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے اور قانونی لڑائی کو منظم ومضبوط کیا جائے ۔تیسرا کام یہ کیا جائے کہ ملک کا جو طبقہ بھی امن وانصاف کیلئے کوشش کرے ہمیں ان کا ساتھ دیں برادران وطن کو ہم یہ محسوس نہ ہونے دیں کہ ہم اپنے کاموں کیلئے ان سے رابطہ رکھتے ہیں اور کام ختم ہوجانے کے بعد ان سے رابطہ نہیں رکھتے ہیں۔چوتھا اہم کام یہ ہے کہ اتحاد بین المسلمین کی فضاءہموار کی جائے، فرقہ، مسلک، مشرب، جماعت اور تنظیم کی سطحوں سے اوپر اٹھ کر آگے بڑھنے کی کوشش کی جائے ۔تمل ناڈو کے معروف سیاسی رہنما اور رکن اسمبلی ڈاکٹر جواہر اللہ نے اپنے خصوصی خطاب میں کہاکہ ہندوستان کو فاششزم کی طرف لیجانے کی کوشش ہورہی ہے ۔نارتھ انڈیا میں ہندو اور مسلمان کے درمیان خلیج قائم کردیاگیا ہے جو نہیں ہونا چاہیے اور اتحاد قائم کرنے کیلئے کوششیںجاری رہنی چاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ عہد رسالت میں یہودیوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی مکمل اجازت تھی ، عیسائیوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی مکمل اجازت دی کبھی ان کو نہیں روکاگیا لیکن آج ہندوستا ن ایک سیکولر اور جمہوری ملک ہے اس کے باوجود یہاں ہم مسلم پرسنل لاءکے تحفظ کی جنگ لڑرہے ہیں۔
کونسل کے نائب قومی صدر مولانا عبد الحلیم باقوی نے اپنے خطاب میں کہاکہ ملی کونسل کے قیام کا مقصدانسانیت اور مذہب کی بنیاد پر تمام ہم وطن کو متحد کرنا اور ملک وملت کو درپیش خطرا ت سے بچانا تھا ۔ ملی کونسل کی تاریخ روشن وتابناک رہی ہے اور اسی نہج پر کونسل ملت اسلامیہ ہندیہ کی رہنمائی جاری رکھے گی ۔ کونسل کے دوسرے نائب قومی صدر مولانا انیس الرحمن قاسمی نے اپنے خطاب میں کہاکہ حکومت آئے مسلمانوں کو مختلف مسائل میں الجھارہی ہے ۔ ہر سطح پر پریشان کررہی ہے ، پولس انتظامیہ اپنی ذمہ داری نہیں نبھارہی ہے لیکن ڈرنے اور خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ایسے حالات کا مقابلہ کرنا ہی اہل ایمان کی علامت ہے۔

عمومی اجلاس سے قبل آل انڈیا ملی کونسل کی مجلس عاملہ کا اجلاس 13 جنوری کی شام کو منعقد ہوا جس میں اراکین عاملہ کی اکثریت نے شرکت کیاور ملک وملت کو درپیش اہم مسئلہ پر متعدد تجاویز پاس کی ۔ واضح رہے کہ آل انڈیا کونسل کی مجلس عمومی کا یہ بائیسواں اجلاس معروف اقتصادی شہر اور صوبہ تمل ناڈو کی راجدھانی چننئی (مدراس) میں منعقد ہورہاہے۔ 13 جنوری کی شام سے اجلاس شروع ہوا ہے اور 15 جنوری تک جاری رہے گا۔