ترونت پورم:  کیرالا کے گورنر عارف محمد خان نے اتوار کے روز الزام عائد کیا کہ فتووں کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ جب سے کانگریس میں تھے، تب سے ان کے خلاف فتوے جاری کیے جارہے ہیں۔انھوں نے آر ایس ایس سے مربوط ہفتہ وار’پنچ جنیہ‘ کے چوٹی اجلاس میں کہا کہ کفر کے فتوے دراصل سیاسی مقاصد کے لیے جاری کیے جاتے ہیں اور انھیں سیاسی ہتھیاروں کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ وہ اُن فتووں کا حوالہ دے رہے تھے جن میں ان کی حرکتوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں کافرانہ قرار دیا گیا تھا۔انھوں نے کہا کہ ہر سماج میں ہمیشہ سے دو مختلف نظریات رہے ہیں، لیکن بعض کے پاس اپنے نظریات کا پرچار کرنے کی طاقت ہے۔ حکمرانوں نے علماء کو تیار کیا تاکہ اُن کے فیصلوں کو مذہبی جواز حاصل ہوسکے۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد سے اسلام پر سیاست کا غلبہ ہوگیا تھا۔ عارف محمد خان نے دعویٰ کیا کہ قرآن میں ایسی کم از کم 200 مثالیں ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ صرف تخلیق کرنے والی ذات ہی صحیح یا غلط کا فیصلہ کرسکتی ہے اور یہ فیصلہ اس وقت ہوگا جب لوگ مرنے کے بعد اپنے خالق سے ملیں گے۔کسی انسان حتیٰ کہ پیغمبر کو بھی اس کا حق نہیں دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں بی جے پی کا حصہ نہیں تھا اور ہندی میں اپنی تقریریں تیار کرتا تھا۔ان دنوں ہندی الفاظ استعمال کرنے پر بھی آپ کے خلاف فتویٰ جاری کردیا جاتا تھا، لہٰذا کفر کے فتاویٰ صرف سیاسی مقاصد کے لیے دیے جاتے ہیں اور انھیں سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔