عبدالرحمان صدیقی، نیوز ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز۔
 
سپریم کورٹ قانون کے الفاظ اور ان الفاظ کے پس پردہ اس کی منشا اور آئین کی روح کو مدنظر رکھتے ہوئے خالص تکنیکی پہلوئوں کے بجائے انسانی بنیادوں کو نظر رکھتے ہوئے ہلدوانی کی اس بستی کو اجاڑے جانے کے فیصلے پر روک لگادی ہے جس کے تحت چند دنوں بعد پوری بستی اجاڑی جانے والی تھی، عدالت عظمی نے اپنے اس فیصلہ میں کہا کہ آپ سات دن کی نوٹس پر چالیس ہزار لوگوں کو بے گھر نہیں کرسکتے، اگر ریلوے کو وہ زمین واپس ہی چاہئے تو جو لوگ اس پر آباد ہیں ان کی باز آبادکاری کےلیے کچھ کرنا ہوگا، عدالت عظمی نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو نہ تو منسوخ کیا ہے نہ اس کو کالعدم قرار دیا ہے، صرف اس پر عملدرآمد پر روک لگائی ہے، مقدمہ کی اگلی سماعت کےلیے ۷ فروری کی تاریخ مقرر کی ہے، سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے کم وبیش ۴۰ ہزار لوگوں کے فوری طور پر اجاڑے جانے کا خطرہ دور ہوگیا ہے، جن لوگوں کے گھر اجاڑے جانے والے اور جو لوگ اس انہدامی کارروائی کے نتیجے میں لوگوں کی پریشانی کے بارے میں سوچ کر درد وکرب میں مبتلا تھے ان سب نے راحت کی سانس لی ہے، جہاں ایک طرف ہلدوانی کے لوگ خوش قسمت تھے کہ ان کی آواز اُٹھانے والے افراد اور تنظیمیں متحرک ہوگئیں وہیں دوسری طرف ایک انہدامی کارروائی مدھیہ پردیش کے عارف نگر میں ہوئی ہے اور وہاں ہزاروں لوگ اجاڑ دئیے گئے اور وہ اب کھلے آسمان کے نیچے سردی کے اس سخت موسم میں زندگی گزار نے پر مجبور ہیں، ان بے بس اور بے سہارا مظلوم اور مقہور لوگوں کی مدد کےلیے کسی کو آگے آناچاہئے انہیں اس طرح حالات کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ 
ہلدوانی کی جس زمین کا معاملہ ملک بھر میں موضوع بحث بنا ہوا تھا یہ زمین ریلوے کی بتائی جاتی ہے، ایک وسیع وعریض رقبہ پر پھیلی اس بستی میں چالیس ہزار کے قریب لوگ آباد ہیں، یہاں چار سرکاری اسکول، ۱۱ پرائیوٹ اسکول، ایک بینک، ۱۰ مسجدیں، چار مندر اور دو پانی کی بڑی ٹنکیاں (اووہیڈ ٹینک) واقع ہیں، ۲۰ دسمبر کو اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے ریلوے کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ سات دن کی نوٹس دے کر اس جگہ کو خالی کرالیاجائے اور لوگ خالی کرنے سے انکار کرے تو پولس اور نیم فوجی دستہ کا استعمال کرکے اس جگہ کو خالی کرائی جائے، اتراکھنڈ ہائی کورٹ کا فیصلہ ان ہزاروں لوگوں پر بجلی بن کر گرا جو اس سے متاثر ہونے والےتھے، لوگوں نے اس کے حلاف زور دار تحریک چلائی، جمہوری انداز میں دھرنوں اور مظاہروں کا اہتمام کیاگیا اور قانونی مدد کےلیے ملک کی سب سے بڑی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا جہاں انہیں راحت ملی۔ 
اتراکھنڈ میں بی جے پی کی حکومت ہے، مرکز میں بھی بی جے پی برسراقتدار ہے غفور بستی میں غالب اکثریت مسلمانوں کی ہے، دیگر برادران وطن کی بھی یہاں بڑی آبادی ہے لیکن اکثریت مسلمانوں کی ہے مختلف تنظیموں اور افراد کے ذریعہ ووٹ بینک کی سیاست بھی کی گئی گودی میڈیا کا ایک بڑا طبقہ اس بات کا منتظر تھا کہ جلد ہی وہ دن آئے جب انہدامی کارروائی شروع ہو اور الیکٹرانک میڈیا کا لشکر جرار اس سانحہ کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹنگ کرے، گودی میڈیا کے اینکر اور کچھ پینلسٹ زور و شور سے انہدامی کارروائی کی وکالت کررہے تھے تو دوسری طرف الیکٹرانک میڈیا سوشل میڈیا او رپرنٹ میڈیا کا ایک طبقہ اپنی انسانیت نوازی کا ثبوت دیتے ہوئے معاملہ کو صحیح ڈھنگ سے پیش کررہا تھا۔ 
جس زمین پر ریلوے اپنا دعویٰ پیش کررہی ہے، اس پر جولوگ قابض ہیں خود ان کا اپنا دعویٰ بھی کم مضبوط نہیں ہے ان لوگوں کے پاس دستاویزی شواہت بھی موجود ہیں ، حکومت نے اس زمین پر سرکاری اسکول، بینک وغیرہ کھولے ہیں، لوگوں سے بجلی او رپانی کا بل اور دیگر واجبات وصول کیے جاتے ہیں، لوگوں کے پاس آدھار کارڈ، الیکشن ووٹنگ کارڈ اور دیگر دستاویزات موجود ہیں، ایسی حالت میں ہزاروں لوگوں کو اجاڑ دئیے جانے کا کوئی جواز بظاہر نظر نہیں آتا۔ 
ناجائز قبضہ کسی ایک شہر یا ریاست کا نہیں پورے ملک کا مسئلہ ہے، دارالحکومت دہلی ، عروس البلاد ممبئی سے لے کر ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں ناجائز قبضوں کی بھر مار ہے، جس وقت یہ ناجائز قبضے ہوتے ہیں اس وقت پولس انتظامیہ اور بلدیاتی ادارے اپنی مجرمانہ غفلت ولاپروائی کی وجہ سے خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں، او رانہدامی کارروائی کے نتیجے میں لوگوں کوعمر بھر کی جمع پونجی سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ سرکاری یا غیر سرکاری زمینوں پر ناجائز قبضہ کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاسکتی، لیکن ضرورت اس سرکاری عملہ کے خلاف بھی کارروائی کرنے کی ہے، جس کی مجرمانہ غفلت اور لاپروائی کے نتیجہ میں غیر قانونی فیصلے وجود میں آتے ہیں، اس کے علاوہ غیر قانونی قبضوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انسانی، سماجی اور معاشی پہلوئوں کو نظر انداز نہیں کیاجاناچاہئے، سپریم کورٹ کے فیصلے کو جو مہلت ملی ہے اس کا درست طریقہ سے استعمال کرتے ہوئے اس مسئلہ کا جامع حل تلاش کرنا ہوگا، تجاوزات کے خاتمے کو لے کر ایک جامع قومی پالیسی بھی بنائی جانی چاہئے، ہر معاملہ کو ہندو مسلمان یا ووٹ بینک کی سیاست کے عینک سے نہیں دیکھا جاناچاہئے۔