کولکاتہ: نوبل انعام یافتہ امرتیہ سین کا ماننا ہے کہ شہریت ترمیمی قانون(سی اے اے) لاگو ہونے سے ملک میں اقلیتوں کا رول گھٹ سکتا ہے اور اکثریت کا غلبہ چاہنے والی طاقتوں کو بڑھاوا مل سکتا ہے۔انہوں نے پی ٹی آئی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کا مقصد اقلیتوں کا رول گھٹانا اور انہیں کم اہم بنانا اور راست یا بالواسطہ ہندو طاقتوں کا رول بڑھانا ہے۔ماہر معاشیات نے کہا کہ مہاتما گاندھی نے کبھی بھی ایک گروپ کو دوسرے گروپ کے مدمقابل کھڑا نہیں کیا۔وہ مذہبی ہندو ہونے کے باوجود مسلمانوں کو ماقبل آزادی سے زیادہ بڑا مقام دینے پر آمادہ تھے۔ ہندوستان کو ایک نہ ایک دن مسلمانوں جیسی اقلیتوں کو نظرانداز کرنے کا افسوس ہوگا۔انہوں نے اپنے انٹرویو میں ملک کی تمام علاقائ جماعتوں کو اہم رول ادا کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی میں ملک کی وزیر اعظم بننے کی اہلیت ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو ہرانا ہے تو ملک کی علاقائی جماعتوں کو اہم رول ادا کرنا ہوگا۔ امرتیہ سین نے کہا کہ 2024کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کامیاب ہوجائے گی ایسا ضروری نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کی کئی علاقائی جماعتوں کا کردار کافی اہم ہوگا ۔ترنمول جیسی علاقائی پارٹیوں کو بہت اہم رول ادا کرنا ہوگا۔ نوبل انعام یافتہ و ماہر معاشیات امرتیہ سین کو بی جے پی مخالف قرار دیا جاتا ہے۔ نریندر مودی کے 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد، وہ کئی بار بنیاد پرست قوم پرستی کے خطرات سے خبردار کر چکے ہیں۔معاشیات میں نوبل انعام یافتہ کو بھی بی جے پی کے مسلسل حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اسی تناظر میں انٹرویو میں انہوں نے ایک بار پھر بی جے پی کو شکست دینے کے لیے علاقائی پارٹیوں کی اہمیت پر زور دیا۔امرتیہ نے کہا کہ ترنمول لیڈر ممتا بنرجی کے پاس ہندوستان کی اگلی وزیر اعظم بننے کی اہلیت ہے۔ لیکن ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ بنگال کے وزیر اعلیٰ بی جے پی کے خلاف عوامی عدم اطمینان کو کس طرح استعمال کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ’’مجھے لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں متعدد علاقائی پارٹیاں بہت اہم ہونے والی ہیں۔ میرے خیال میں ڈی ایم کے ایک اہم پارٹی ہے، ترنمول بھی بہت اہم ہے، یہی بات سماج وادی پارٹی پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ لیکن مجھے نہیں معلوم کہ اس وقت کیا صورتحال ہے۔