Latest News

نامور صحافی حافظ محمد رضوان سلمانی کے انتقال پر سرکردہ علماء کرام اور دانشوران کا اظہار تعزیت۔

دیوبند کے نامور صحافی حافظ محمد رضوان سلمانی کے انتقال پر سرکردہ شخصیات نے گہرے رنج و علم کا اظہار کرتے ہوئے اہل خانہ سے تعزیت مسنونہ پیش کی اور مرحوم کے لیے دعائے مغفرت و پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی، یقیناً رضوان سلمان کا انتقال دیوبند کی اردو صحافت کے لیے  بڑا خسارہ ہے۔ ان کے انتقال پر نامور علماء کرام اور دانشوروں نے اپنے تعزیتی پیغام میں ان کے انتقال کو اردو صحافت کا بڑا نقصان قرار دیا۔

دارالعلوم وقف دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا محمد سفیان قاسمی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ۔۔۔
پرسوں صبح دیوبند سے روانہ ہوا، دہلی ایرپورٹ پر جناب فہیم اختر صاحب کی تحریر سے رضوان سلمانی صاحب کی تشویشناک حالت بیماری کی اطلاع پہلی مرتبہ ملی یہ اچانک خبر میرے لیے شدید صدمے کی اطلاع تھی جس کے بارے میں اس سے قبل میرے پاس کسی قسم کی کوئی معلومات نہیں تھی، اسی وقت ان کے گھر پر فون کر کے تفصیلی معلومات حاصل کیں۔
ابھی ابھی ڈاکٹر عبید اقبال عاصم صاحب کی تحریر سے رضوان سلمانی صاحب مرحوم و مغفور کے افسوسناک سانحۂ وفات کی اطلاع میرے لیے اتنی ہی اچانک ثابت ہوئی جتنی کہ بیماری کی خبر ہوئی تھی۔
اناللہ واناالیہ راجعون
شدید صدمہ ہوا، بارگاہ ذوالکرم میں دست بہ دعاء ہوں حق تعالی مرحوم و مغفور کو جوار رحمت میں جگہ عطاء فرمائیں اور ان کے اہل و عیال اور خاص طور پر ان کے والد محترم جناب ماسٹر اسلام صاحب کو اس شدید صبر آزما موقع پر حوصلہ، ہمت، استقامت اور صبر جمیل کی توفیق عطاء فرمائیں، بلاشبہ اس پیرانہ سالی کے دور میں یہ صدمہ ان کے لیے بہت بڑی آزمائش کا مقام ہے۔
حق تعالی نے مرحوم و مغفور کو بہت سی خصوصیات اور امتیازات سے سرفراز فرمایا تھا، تعلق شناسی، ملنساری، معاشرتی وضع داری، خوش خُلقی وخوش اخلاقی اور ہر ایک کے کام آنے جیسی صفات، عبادات کا اہتمام و التزام یہ وہ محاسن ہیں جس کے سبب ہر ایک حلقہ میں ان کی شخصیت بڑی مقبول رہی ہے، بلاشک وشبہ ہر ایک ذی روح کو اپنے رب کی بارگاہ میں مہلت حیات پوری کر کے لمحہ و لحظہ کی تاخیر کے بغیر حاضر ہوجانا حق تعالی کا امر تکوین ہے، اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں ہے کہ اب ہم ان کو کبھی بھی اپنے درمیان متحرک و متکلم اور متبثم شکل میں نہیں دیکھ پائیں گے لیکن جانے والے کے بہترین محاسن، اعلی اخلاق اور پسندیدہ عادات انسان کو ایک طویل مدت تک لوگوں کے دلوں میں زندہ رکھتے ہیں اور موقع بہ موقع جانے والے کا تذکرہ کسی نہ کسی صورت میں مجالس کے موضوعات کا حصہ بنا رہتا ہے۔
حق تعالی ان کے سئیات سے عفو و درگذر اور حسنات کو شرف قبولیت سے سرفراز فرماتے ہوئے جنت الفردوس میں ان کو اعلیٰ مقام عطاء فرمائیں،
آمین یا رب العالمین
محمد سفیان قاسمی
مؤرخہ: یکم اکتوبر، ۲۰۲۳م

ممتاز عالم دین اور جامع مسجد امروہہ کے استاد حدیث حضرت مولانا مفتی سید عفان منصور پوری نے تعزیتی پیغام میں ۔۔۔۔
انا للہ وانا الیہ راجعون 
مرحوم رضوان سلمانی سادہ مزاج اور عمدہ اخلاق کے مالک تھے ، انہوں نے اپنی صحافتی ذمے داریوں کو مثبت انداز میں بڑی دیانت داری اور سلیقے کے ساتھ انجام دیا ، مدارس اسلامیہ ، علماء کرام اور مسلم تنظیموں سے متعلق خبروں کو پرنٹ میڈیا میں وہ برابر نمایاں مقام دیتے رھے ، اردو صحافت میں ان کی کمی محسوس کی جاتی رھے گی ۔
باری تعالٰی مرحوم کی مغفرت فرمائیں ، ضعیف العمر والدین، اھل و عیال اور جملہ پسماندگان و متعلقین کو صبر جمیل نصیب فرمائیں۔

دیوبند کے معروف صحافی جناب رضوان سلمانی کے انتقال پر جمعیت علماء ہند کے کہ صدر مولانا سید محمود مدنی کا اظہار رنج و غم.۔۔

جمعیت علماء ہند کے صدر حضرت مولانا محمود اسعد مدنی اور جنرل سیکرٹری مولانا حکیم الدین قاسمی صاحب نے دیوبند کے معروف صحافی جناب رضوان سلمانی کے انتقال پر ملال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ تعزیت مسنونہ کی ہے. 
مرحوم سچے، مخلص اور اصولی صحافی تھے جنہوں نے اپنی صحافت سے نہ صرف یہ کہ اردو زبان کی خدمت کی بلکہ ملی آواز کو تقویت بخشی. 

ان کی بیماری کی اطلاع جب جمعیت علماء کو موصول ہوئی تھی تو جمعیت علماء ہند کے ایک وفد نے جنرل سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی صاحب کی قیادت میں دلی کے صفدر جنگ ہسپتال پہنچ کر ان کی عیادت کی تھی. اس وفد میں جمعیت علماء ہند کے شعبہ میڈیا سے وابستہ مولانا عظیم اللہ صدیقی، الجمعیت بک ڈپو کے مینجر مولانا ضیاء اللہ قاسمی اور جمعیت علماہند کے شعبہ تنظیم سے وابستہ مولانا مفتی ذاکر قاسمی بھی شریک تھے.
صفدر جنگ ہسپتال میں علاج و معالجہ کے بعد ان کو چھٹی کر دی گئی تھی اور وہ دیوبند واپس چلے گئے تھے لیکن پھر ان کی طبیعت اچانک بگڑ گئی. 
 کچھ دنوں سے اہل خانہ سے لگاتار بات چیت چل رہی تھی کہ ان کو دہلی کے مہرولی میں واقع ہسپتال میں داخل کرایا جائے. اس سلسلے میں قاری ہارون صاحب مہرولی سے بات چیت ہو گئی تھی. انہوں نے ایڈمٹ کرانے کی پوری ذمہ داری لے لی تھی. 

 لیکن زندگی نے وفا نہیں کی اور مہرولی کے ہسپتال میں داخل ہونے سے پہلے ہی انھون نے دیوبند میں اخری سانس لے لی. دعا ہے کہ اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرماتے ہوئے ان کے درجات بلند فرمائے درجات بلند فرمائے اور مرحوم کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے. 
 گھر میں ابھی سب بچے چھوٹے ہیں اور بچیاں بھی ہیں، اللہ تعالی سبھی بچے اور بچیوں کو صبر جمیل عطا فرمائے اور اہل خانہ کے لیے غیب سے رزق عطا فرمائے. آمین


عالمی شہرت یافتہ شاعر ڈاکٹر نواز دیوبندی نے اپنے تعزیتی نامے میں کہا کہ۔۔
اللہ تعالٰی رضوان سلمانی مرحوم کی مغفرت فرمائے درجات بلند فرمائے اور تمام پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین، بہت بھلے، شریف اور نیک طینت انسان تھے، دیوبند کے صحافتی حلقے کا ایک بڑا نقصان ہے۔

یو پی رابطہ کمیٹی کے سیکرٹری ڈاکٹر عبید اقبال عاصم نے اپنے تحریری تعزیتی پیغام میں لکھا کہ۔۔۔
کیا رضوان سلمانی کے لئے مجھے کبھی کوئ تعزیتی تحریر لکھنی پڑےگی اس کا تصوّر بھی محال تھا لیکن آج جب عزیزم عارف عثمانی نے واٹس ایپ پر یہ اطلاع دی تو دل ودماغ میں انتشار پیدا ہوگیا افسوس کہ دیوبند کے اچھے برے کی خبر لینے والا اور اردو دنیا کو اس سے با خبر رکھنے کی دھن میں محو' رہنے والا یہ مخلص شخص ہمیشہ ہی اپنے آپ سے اور اپنے اندرون سے بے خبر رہا جس کے نتیجے میں اس دنیائے فانی کے سارے جھمیلوں سے چھٹکارا پا گیا ۔ اللہ تعالیٰ اسے اس دنیا میں تمام خوشیاں نصیب کرے جہاں کی زندگی ہمیشہ رہنے کے لئے ھے ۔ بوڑھے باپ کے "ناتواں کاندھوں" پر اپنے ہونہار جوان بیٹے کے جنازہ کے بوجھ کے تصور سے بھی دل دہل رہا ھے لیکن رضوان کے والد (ماسٹر محمد اسلام صاحب) مضبوط اعصاب کے مالک ہیں واقعتاً یہ صدمہ ان کے لئے جانکاہ ھے لیکن اللہ ربّ العزت کی مرضی پر لبیک کہنے کے علاوہ کوئ چارہ کار نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ انہیں صبر جمیل کی دولت سے مالا مال فرمائے آمین مرحوم کے اہل وعیال اور تمام اعزاء اقرباء و احباب با لخصوص دیو بند کے تمام صحافیوں کے لئے یہ خبر بہت زیادہ افسوس ناک ھے اور سبھی اپنے اس ساتھی کی جدائی پر غم ورنج کا اظہار کررہے ہوںگے لیکن موت ایک ایسی اٹل حقیقت ھے جو ہر ذی نفس کو ہر حالت میں آنی ھے ۔ اللہ تعالیٰ سبھی کا انجام بخیر کرے آمین ۔
رضوان سلمانی کا جہاں تک تعلق ہے اس نے گذشتہ تقریباً دو دہائیوں کا صحافتی سفر شبانہ روز محنت و جدوجہد کے نتیجے میں جس نیک نامی کے ساتھ طے کیا وہ مثالی ھے ۔ جس شخص نے کبھی "مکتپ صحافت" کا کوئ "در" نہ دیکھا ہو اس کا یکایک صحافت میں اپنا مقام بنا لینا اور اردو صحافت کو معیاری بنانے کی تگ ودو میں اپنی زندگی کی پرواہ کئے بغیر پوری پوری کوششیں کرنا اور اسکے لئے سبھی ساتھیوں کو یکجا کرنا ان کے قابل قدر کام ہیں اس سلسلے میں انہوں نے جو خدمات انجام دیں وہ یقینا لائق ستائش ہیں۔ اللہ ان کی خدمات کو قبول فرماۓ اور جزاۓ خیر عطافرمائے آمین ۔
مرحوم سے آخری ملاقات گذشتہ ماہ ستمبر کی نو تاریخ کو ہوئ تھی جب وہ حسب معمول عصر کی نماز کے بعد دیوبند نیوز پوائنٹ کے دفتر میں کمپوزنگ کی خدمت انجام دینے والے (مولانا راشد صاحب) کو خبریں ٹائپ کرا رہے تھے ۔ بے تکلفی کے انداز میں بہت سی باتیں ہوئیں لیکن یہ کیا معلوم تھا کہ یہ ملاقات آخری ملاقات ہوگی ۔ اسکے بعد انہیں بیماری نے گھیر لیا جس سے تشویش ضرور تھی لیکن یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ جان لیوا ثابت ہوگی ۔ مرحوم بہت ہنس مکھ' خوش اخلاق' ہمدرد' ہر کسی کے غمخوار جیسے اوصاف کے باعث ملت کا گراں قدر سرمایہ تھا اب جبکہ وہ اس فانی دنیا سے تعلق منقطع کر چکا ہے تو صبر کے علاوہ کیا بھی کیا جاسکتا ہے؟ لیکن فطری غم نے دل ودماغ کو جس طرح متاثر کیا ھے اس کا اظہار کرنا بھی ضروری ھے ۔ افسوس یہ کہ میں اپنی کچھ ذاتی مجبوریوں کی وجہ سے اپنے اس دوست کی آخری زیارت سے بھی مجبور ہوں اور بارگاہ ربّ العزت میں صرف دعاۓ مغفرت کی سوغات ہی پیش کر سکتا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمالے آمین ۔
عبید اقبال عاصم ۔علی گڑھ۔ سیکریٹری یو پی رابطہ کمیٹی۔۔یکم اکتوبر ٢٠٢٣

سیکریٹری شعبہ دینی تعلیم آل انڈیا ملی کونسل مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ۔۔
اردو کے معروف و سینئر صحافی اور دہلی سے شائع ہونے والے روز نامہ’ہمارا سماج‘ کے کمشنری سہارن پور کے بیوروچیف رضوان سلمانی صبح اتوار کے روز طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کے انتقال پر دینی و علمی، ملی و سماجی اور صحافتی حلقوں میں سوگ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ انتقال کی خبر سے ہر کوئی مغموم ہے۔
سیکرٹری شعبہ دینی تعلیم آل انڈیا ملی کونسل مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ رضوان سلمانی ایک مشہور صحافی تھے ، اپنی جرات و بے باکی کی وجہ سے معروف و مقبول تھے، وہ علم دوست اور قدر شناس تھے ، جب بھی ان سے ملاقات ہوئی اخلاق و محبت سے ملے ، اس طرح وہ اخلاق و محبت کے پیکر تھے ،مخصوص طرز تحریر کی وجہ سے اردو صحافتی حلقوں میں وہ سرکردہ مقام کے حامل تھے۔ انہوں نے روزنامہ ہمارا سماج میں اپنی صحافتی خدمات انجام دیں۔ان کی خدمات تقریباً کئیں عرصوں پر محیط تھی۔ وہ کافی دنوں سے علیل تھے۔ ان کے انتقال کی اطلاع پر نہ صرف دیوبند بلکہ سبھی اردو قارئین اور صحافتی گوشوں میں صدمہ کی لہر ہے۔ 
انکے انتقال کا جو حادثہ پیش آیا، اس پر میں اپنی جانب سے، آل انڈیا ملی کونسل ضلع سہارنپور ،کارکنان وخدام اور جامعہ رحمت گھگھرولی واساتذہ کرام کی جانب سے تعزیت مسنونہ پیش کرتا ہوں ، اللہ رب العزت تمام متعلقین ومحبین کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے، اور مرحوم کو اعلیٰ علیین میں مقام بلند نصیب فرمائے۔
اس المناک حادثہ پر جامعہ رحمت گھگھرولی میں ایک تعزیتی نشست منعقد ہوئی جس میں مرحوم کے لئے ایصال ثواب و دعائے مغفرت کی گئی ، نماز جنازہ بعد ظہر دارالعلوم دیوبند میں ادا کی جائیگی۔

نور گروپ کے چیئرمین عثمان وارد کے تعزیتی تاثرات۔۔۔
نور گروپ کے چیئرمین عثمان وارد نے اپنے تعزیتی تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ دیوبند کے نامور صحافی محترم رضوان سلمانی صاحب کے انتقال کی خبر سن کر دلی صدمہ پہنچا ہے رضوان سلمانی صاحب اپنے اطراف و اکناف کے علماء اور اہل مدارس سے خوشگوار تعلقات رکھنے کے ساتھ ساتھ انکی خبریں بہت اچھے انداز میں پرنٹ میڈیا تک پہنچاتے جسکی وجہ سے وہ بہت ممتاز رہے ادبی ذوق رکھنے والے باادب صحافی بہت کم تعداد میں دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن رضوان سلمانی صاحب صحافتی دیانت داری کا پاس رکھنے والے بہت منجھے ہوئے صحافی تھے اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

سماجی کارکن اور نظر فاؤنڈیشن کے چیئرمین نجم عثمانی نے تعزیت نامے میں کہا کہ۔۔۔
اللہ تعالٰی بھائی رضوان سلمانی مرحوم کی مغفرت فرمائے درجات بلند فرمائے اور تمام پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین، مرحوم بہت ہی خوش اخلاق، ملنسار، ہمدرد، سب کی خوشی اور غم میں حاضر رہنے والے تھے، پرائمری اسکول کے میرے ساتھی رہے، ہم نے ایک بےباک صاف گوئی صحافی کو کھو دیا، ہم دیوبند والے مرحوم کی محبتوں کا قرض ادا نہیں کر پائے، کچھ نہیں کر پائے، میرے بھائی شہزاد عثمانی مرحوم سے رضوان بھائی بہت تعلق تھا، بھائی شہزاد کا غم ابھی تک نہیں بھولے اور اب بھائی رضوان کے جانے کا غم جیسکا ہمیشہ افسوس در افسوس رہیگا، بھائی شہزاد عثمانی اور بھائی رضوان دیوبند صحافت کے مضبوط قلعے تھے، صحافت کی دنیا میں دیوبند والوں کے دلوں میں دونوں بھائیوں نے اپنی بےحد جگہ بنائی ہوئی تھی، شہزاد بھائی، رضوان بھائی تاریخی شہر دیوبند والوں ہندو مسلم سماج میں اپنا اچّھا مقام رکھتے تھے، ہندو مسلم بھائی چارہ کا مضبوط ستون تھے، بہت بھلے ,شریف اور نیک طینت انسان تھے دیوبند کے صحافتی حلقے کا ایک اور بڑا خلا ہے۔ نجم عثمانی دیوبند۔

سلیم احمد عثمانی کانگریسی لیڈر اور سماجی کارکن نے کہا کہ۔۔
اناللہ واناالیہ راجعون دیوبند کے معروف و مقبول صحافی بھائی رضوان سلمانی نہ رہے۔
طویل علالت کے بعد آج مورخہ یکم اکتوبر 2023ء بوقت سحر اپنے رب سے جاملے تمام متعلقین اور منتسبین سے ایصال ثواب کی درخواست ھے۔
تمام ذمہ داران مدارس وائمہ مساجد نیز تمام فلاحی تنظیموں اور جماعتوں کے کارکنان سے التجاء ہے دعائے مغفرت فرمائیں۔ اور پسماندگان بالخصوص ان کے 90 سالہ ضعیف العمر والد اور چھوٹے چھوٹے بچوں کیلئے دعائے صبروسکون فرمائیں۔ رب العالمين حافظ محمدرضوان سلمانی کی مغفرت فرمائے اور جنت میں اعلی مقام عطافرمائے آمین۔

جامعہ قاسمیہ دارالتعلیم والصنعہ دیوبند روح رواں مولانا ابراہیم قاسمی نے اپنے پیغام میں کہا کہ۔۔

اناللہ واناالیہ راجعون
 دیوبند کے معروف ومقبول صحافی بھائی رضوان سلمانی نہ رھے۔ طویل علالت کے بعد آج مورخہ یکم اکتوبر2023ء بوقت سحر اپنے رب سے جاملے تمام متعلقین اور منتسبین سے ایصال ثواب کی درخواست ھے۔
تمام ذمہ داران مدارس وائمہ مساجد نیزتمام فلاحی تنظیموں اور جماعتوں کے کارکنان سے التجاءھے دعائے مغفرت فرمائیں۔ اور پسماندگان بالخصوص ان کے 90سالہ ضعیف العمر والد اور چھوٹے چھوٹے بچوں کیلئے دعائے صبروسکون فرمائیں۔ رب العالمین حافظ محمدرضوان سلمانی کی مغفرت فرمائے اور جنت میں اعلی مقام عطافرمائے آمین۔

Post a Comment

0 Comments

خاص خبر