آگرہ: مسجد نہر والی کے خطیب مولانا محمد اقبال نے یومِ آزادی کے موقع پر خطبۂ جمعہ میں آزادی کی اہمیت، قومی یکجہتی اور ملک کی ترقی کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزادی صرف جشن منانے یا پرچم لہرانے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ ہمیں اپنے شہداء اور مجاہدینِ آزادی کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے ملک کی ترقی، اتحاد اور بھائی چارے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
محمد اقبال نے کہا کہ ہندوستان کی آزادی کے لیے لاکھوں لوگوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، جن میں علماء، ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی سب شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کی تحریک کسی ایک طبقے یا مذہب کی جدوجہد نہیں تھی بلکہ تمام ہندوستانیوں کی مشترکہ قربانیوں کا نتیجہ تھی۔ انہوں نے کہا کہ انگریزوں نے ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی کے ذریعے ہندوستان پر طویل عرصے تک حکومت کی۔ افسوس کی بات ہے کہ آج بھی بعض عناصر لوگوں کو مذہب، ذات اور فرقے کے نام پر تقسیم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمیں ایسی کوششوں سے ہوشیار رہتے ہوئے قومی اتحاد اور بھائی چارے کو مضبوط کرنا ہوگا۔
مسجد نہر والی کے خطیب نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ تعلیم حاصل کریں، سچ بولیں، محنت کو اپنا شعار بنائیں اور ملک کے مستقبل کی تعمیر میں مثبت کردار ادا کریں۔ انہوں نے قرآن کریم کی تعلیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب تک انسان خود اپنے اندر تبدیلی پیدا نہیں کرتا، حالات میں حقیقی تبدیلی نہیں آ سکتی۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کا اصل مقصد انصاف، تعلیم، غربت کا خاتمہ، انسانی وقار اور اچھے اخلاق کا فروغ ہے۔ اگر معاشرے میں کرپشن، ظلم، ناانصافی اور محرومی موجود ہو تو ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ آزادی کے حقیقی مقاصد کس حد تک حاصل ہوئے ہیں۔
محمد اقبال نے کہا کہ ہندوستان کی آزادی نے برطانوی سلطنت کو بڑا دھچکا پہنچایا اور اس کے بعد دنیا کے دیگر ممالک میں بھی آزادی کی تحریکوں کو تقویت ملی۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی ہماری سب سے بڑی طاقت ہمارا باہمی اتحاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی سب مل کر ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں اور اپنی صلاحیتوں کو مثبت انداز میں استعمال کریں، تاکہ ہندوستان دنیا میں ایک مضبوط، ترقی یافتہ اور باوقار ملک کی حیثیت سے اپنا مقام مزید مستحکم کرسکے۔ آخر میں محمد اقبال نے تمام اہلِ وطن کو یومِ آزادی کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب عہد کریں کہ ملک کی آزادی، امن، اتحاد اور ترقی کے لیے مل جل کر کام کریں گے۔

0 Comments