Latest News

جب تک ہم کتابوں کی طرف واپس نہیں آئیں گے، عزت واپس نہیں آئے گی: خطیب محمد اقبال۔ مسجد نہر والی میں خطبۂ جمعہ کے دوران مطالعہ کی اہمیت پر خصوصی خطاب، مسلم علاقوں میں لائبریریاں قائم کرنے اور اردو اخبارات کے فروغ کی اپیل۔

آگرہ: مسجد نہر والی کے خطیب محمد اقبال نے خطبۂ جمعہ کے دوران مسلم معاشرے میں مطالعہ کے رجحان میں کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ہم کتابوں کی طرف واپس نہیں آئیں گے، ہماری عزت واپس نہیں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ جس امت پر سب سے پہلا حکم ’’اقرأ‘‘ یعنی پڑھو نازل ہوا، افسوس آج وہی امت پڑھنے کے معاملے میں سب سے پیچھے نظر آ رہی ہے۔ خطیب محمد اقبال نے کہا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے: ’’اقرأ باسم ربک الذی خلق‘‘، یعنی اپنے رب کے نام سے پڑھو جس نے پیدا کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے علم، مطالعہ اور غوروفکر کو کتنی اہمیت دی ہے۔ لیکن موجودہ حالات کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے کتابوں سے اپنا رشتہ کمزور کرکے کھانے پینے اور دنیاوی مصروفیات کو زندگی کا اہم مقصد بنا لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلم علاقوں میں مختلف قسم کے کھانے پینے کے ہوٹل، ریسٹورنٹ اور دکانیں بڑی تعداد میں نظر آتی ہیں۔ کھانے کی مختلف اقسام کے لیے لوگوں میں ایک طرح کی دوڑ دکھائی دیتی ہے، لیکن اگر کسی مسلم علاقے میں کتابوں کی لائبریری تلاش کی جائے تو کئی جگہوں پر مشکل سے کوئی لائبریری نظر آئے گی۔ محمد اقبال نے واضح کیا کہ اسلام نے کھانے پینے سے منع نہیں کیا، بلکہ زندگی کو صرف کھانے پینے تک محدود کرنے اور اسراف سے بچنے کی تعلیم دی ہے۔ انہوں نے قرآن کریم کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:
’’اور کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ بڑھو، بے شک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جس قوم کی پہلی آیت ’’اقرأ‘‘ ہو، اسے کتابوں اور علم کا وارث بننا چاہیے تھا، مگر افسوس کہ آج ہم کتابوں کے بجائے مختلف کھانوں اور پکوانوں کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ خطیب محمد اقبال نے کہا کہ کسی بھی قوم کی ترقی کا راز علم، تعلیم اور مطالعہ میں پوشیدہ ہے۔ اگر بچوں اور نوجوانوں میں کتاب پڑھنے کی عادت پیدا نہیں کی جائے گی تو آنے والی نسلیں علمی اور فکری میدان میں پیچھے رہ جائیں گی۔ انہوں نے مختلف رپورٹس میں پیش کیے گئے مطالعے کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلم معاشرے میں کتاب پڑھنے کے رجحان پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے بچے کتاب کے بجائے اپنا زیادہ وقت صرف موبائل فون، تفریح اور دیگر غیر ضروری مصروفیات میں گزاریں گے تو اس کے اثرات مستقبل میں معاشرے پر ضرور مرتب ہوں گے۔
محمد اقبال نے کہا کہ مسلم علاقوں میں لائبریریاں قائم کرنے کی پہل کسی نہ کسی کو کرنی ہوگی۔ اس کے لیے ضروری نہیں کہ ابتدا ہی میں بہت بڑی لائبریری قائم کی جائے، بلکہ چند اچھی کتابوں، اخبارات اور رسائل سے بھی آغاز کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے اپنے علاقوں میں لائبریری قائم کریں، اخبارات سے آغاز کریں اور اس کے بعد دینی، تاریخی، علمی اور اصلاحی کتابیں لائبریری میں شامل کی جائیں۔ انہوں نے والدین سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو کتابوں سے جوڑیں اور گھروں میں مطالعے کا ماحول پیدا کریں۔ خطبے کے دوران اردو زبان اور اردو صحافت کی صورتحال پر بھی انہوں نے توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اردو کے زوال کا رونا تو روتے ہیں، لیکن جب پانچ روپے کا اردو اخبار خریدنے کی بات آتی ہے تو ہم تیار نہیں ہوتے۔
انہوں نے سوال کیا کہ اگر ہم ہی اردو اخبار نہیں خریدیں گے تو اردو صحافت کو کون زندہ رکھے گا؟۔ محمد اقبال نے کہا کہ اردو زبان کے فروغ کے لیے صرف تقریریں کافی نہیں، بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اردو اخبارات خریدنا، پڑھنا اور دوسروں تک پہنچانا بھی اردو کے تحفظ اور فروغ کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
خطیب محمد اقبال نے اپنے خطاب کے اختتام پر مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ کتابوں اور علم سے اپنا رشتہ دوبارہ مضبوط کریں۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں حقیقی تبدیلی اسی وقت آئے گی جب گھروں، مدارس، مساجد اور محلوں میں مطالعے کا ماحول پیدا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کتابوں کے وارث بننا ہے، صرف پکوانوں کے نہیں۔ اگر ہم اپنی نئی نسل کو علم، مطالعہ اور تحقیق سے جوڑ دیں تو وہ نہ صرف اپنے معاشرے بلکہ پوری دنیا میں بہتر کردار ادا کرسکتی ہے۔ انہوں نے اہلِ خیر، سماجی تنظیموں اور مسلم معاشرے کے ذمہ دار افراد سے اپیل کی کہ وہ اپنے علاقوں میں لائبریریاں قائم کرنے کے لیے آگے آئیں اور نئی نسل کو کتاب، قلم اور علم سے جوڑنے کی عملی کوشش کریں۔

Post a Comment

0 Comments

خاص خبر