Latest News

اللہ ظالموں کو ڈھیل دیتا ہے، لیکن چھوڑتا نہیں: خطیب محمد اقبال۔ مسجد نہر والی آگرہ میں خطبۂ جمعہ کے دوران ظلم سے بچنے، مظلوم کا ساتھ دینے اور اپنا محاسبہ کرنے کی تلقین۔

آگرہ: مسجد نہر والی کے خطیب محمد اقبال نے خطبۂ جمعہ کے دوران نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ ظالموں کو مہلت دیتا ہے، لیکن انہیں ان کے ظلم کے انجام سے بے خبر نہیں چھوڑتا۔ انہوں نے قرآن کریم کی آیات اور احادیثِ نبویؐ کی روشنی میں ظلم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انسان کو ہر حال میں ظلم و زیادتی سے بچنا چاہیے اور مظلوم کا ساتھ دینا چاہیے۔ خطیب محمد اقبال نے سورۂ ابراہیم کی آیت 42 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ ظالموں کے اعمال سے غافل نہیں ہے، بلکہ انہیں ایک مقررہ دن تک مہلت دے رہا ہے، جب خوف اور دہشت کے باعث آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ جب ظلم حد سے بڑھ جاتا ہے تو اس کا زوال شروع ہو جاتا ہے۔ قرآن کریم میں مختلف مقامات پر سابقہ قوموں اور بستیوں کے انجام کا ذکر کیا گیا ہے، جنہیں ظلم کے سبب ہلاک کیا گیا۔ سورۂ کہف کی آیت 59 کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ان بستیوں کی ہلاکت کا ذکر ان کے ظلم کے تناظر میں کیا ہے۔ خطیب محمد اقبال نے کہا کہ حالات خواہ کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، انسان کو صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہر شخص کو اپنا محاسبہ بھی کرتے رہنا چاہیے کہ کہیں وہ خود کسی کے ساتھ ناانصافی تو نہیں کر رہا۔ انہوں نے کہا کہ ظلم صرف بڑے پیمانے پر ہی نہیں ہوتا، بلکہ روزمرہ زندگی میں بھی انسان دوسروں کے حقوق پامال کر سکتا ہے۔ ہمیں اپنے گھر والوں، رشتہ داروں، ملنے والوں اور ملازمین کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہیں کرنی چاہیے۔ اسی طرح کسی ظالم کی حمایت یا اس کے ظلم میں تعاون کرنے سے بھی بچنا ضروری ہے۔
انہوں نے حدیثِ نبویؐ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے بھائی کی مدد کرنے کی تعلیم دی، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا کہ مظلوم کی مدد تو سمجھ میں آتی ہے، لیکن ظالم کی مدد کیسے کی جائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے ظلم سے روک دینا ہی اس کی مدد ہے۔
خطیب محمد اقبال نے کہا کہ جب اسلام نے ظلم کے معاملے میں اتنی سخت تنبیہ کی ہے تو ہر مسلمان کو اس سے بچنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں بڑے بڑے طاقتور حکمران آئے، لیکن ظلم اور غرور کے ساتھ ان کی طاقت بھی ہمیشہ قائم نہیں رہی۔ فرعون کی مثال ہمارے سامنے ہے، جس کا انجام انسان کے لیے عبرت کا پیغام ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا ایک مضبوط نظام کے تحت چل رہی ہے اور کسی کو بھی اپنی طاقت، عہدے یا اختیار پر غرور نہیں کرنا چاہیے۔ جب ظلم بڑھتا ہے تو اس کے نتائج بھی سامنے آتے ہیں۔ اس لیے ہر شخص کو دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے اور ناانصافی سے دور رہنا چاہیے۔

حکمرانوں سمیت ہر شخص کو اپنا محاسبہ کرنا چاہیے۔

خطیب محمد اقبال نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ انسان اکثر دوسروں کی غلطیوں پر توجہ دیتا ہے، لیکن کبھی خود بھی اسی غلطی میں مبتلا ہو جاتا ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم دوسروں کے اعمال پر نظر رکھنے کے ساتھ اپنے کردار اور رویّے کا بھی جائزہ لیتے رہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ظلم و زیادتی سے محفوظ رکھے، مظلوموں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے حکمرانوں کو بھی صحیح فہم و فراست اور درست فیصلے کرنے کی صلاحیت عطا فرمائے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عدل و انصاف پر قائم رہنے اور دوسروں کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

Post a Comment

0 Comments

خاص خبر