Latest News

شریعت اسلامیہ نے جہیز کا نہیں بلکہ بہنوں کو وراثت میں حصہ دینے کا حکم دیا ہے: مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی۔

شریعت اسلامیہ نے جہیز کا نہیں بلکہ بہنوں کو وراثت میں حصہ دینے کا حکم دیا ہے: مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی۔
جمعیۃ علماء فتح پور کے زیر اہتمام قصبہ بہوہ میں اجتماع خواتین کا انعقاد
فتح پور:۔ جمعیۃ علماء وسطی اتر پردیش کی ہدایت پر پورے زون میں منعقد ہونے والے 10روزہ اجتماع برائے خواتین کے موقع پر جمعیۃ علماء فتح پور کے زیر اہتمام ایک اجتماع خواتین بعنوان موجودہ حالات میں ہماری ماؤں بہنوں کی ذمہ داریاں محلہ آزاد نگر قصبہ بہوہ فتح پور میں جمعیۃ علماء فتح پور کے نائب صدر مولانا فضل الرحمن قاسمی کی صدارت میں منعقد ہو ا۔ اجتماع سے خطاب فرماتے ہوئے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے ناظم تنظیم مفتی سید محمد حذیفہ قاسمی نے خواتین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ خداوند قدوس نے آپ خواتین کو جو ذمہ داریاں دی ہیں، فکر آخرت کے تصور کو ذہن میں رکھتے ہوئے ان ذمہ داریوں کو نبھائیں کیونکہ جس خدا نے پیدا کیا ہے وہی خدا ایک دن اس دنیا سے بلا لے گا۔ اس نے جو کچھ بھی دنیا میں دیا ہے دنیا میں کوئی پوچھے یا نہ پوچھے لیکن اس کے یہاں جاکر ایک ایک چیز کا حساب دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہب اسلام نے خواتین اور مرد دونوں کو الگ الگ حقوق بتلائے ہیں،اللہ اور رسول کے بعد سب سے اونچا حق تمہارے لئے تمہارے شوہر کا ہے۔ شوہر کے مال کی امانت داری، اس کی عصمت اور عفت کی حفاظت، گھر کے ماحول کو دینی اور ایمانی بنانا آپ کی ذمہ داری ہے۔ دوسری جانب بیوی کی تمام ضرورتوں کو پورا کرنا شوہر کی ذمہ داری ہے۔ آقاؐ فرماتے ہیں کہ تم میں سے سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جن کا سلوک اپنی عورتوں سے اچھا ہو،میرا سلوک میری عورتوں سے اچھا ہے۔ مفتی صاحب نے کہا کہ شوہر اور بیوی میں کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہے، قدرت نے دونوں کی الگ الگ ذمہ داریاں طے کی ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں ہی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی کریں۔
جمعیۃ علماء اتر پرد یش کے نائب صدر مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سماج میں جتنی برائیاں پھیلی ہوئی ہیں ان میں سے اکثر وہ ہیں جن کی بنیادبچپن سے ہی ہوتی ہے اور بچپن میں تربیت کی اصل ذمہ داری ماں کے اوپر ڈالی گئی ہے، ماں کے گود کو بچے کا پہلا مدرسہ کہا گیا ہے۔ اس لئے اگر والدین اور خاص طور پر ہماری مائیں اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کر لیں تو مستقبل کا ہمارا سماج او رمعاشرہ ساری دنیا کیلئے نمونہ اور مثال بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقہ کے تمام عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ مستقل اس بات کی مہم چلائیں کہ نونہال بچوں کو گھروں میں اچھا،دیندار،ایماندار ماحول مہیا کرایا جائے۔ بچپن سے ہی بچوں کے اندر ایثار کا جذبہ پیدا کریں،اپنا حق دوسروں کو دینے کی عادت ڈالیں۔ مولانا نے کئی مثالیں دے کر سمجھایا کہ جو لوگ بڑے ہو چکے اور اگر ان کے بھائیوں یا اپنی بہنوں کے درمیان کچھ اختلافات ہیں تو اسے دور کریں کیو نکہ ہماری نئی نسل ہمیں اور آپ کو ہی دیکھ کر بہت کچھ سیکھتی ہے۔ جب بچے دیکھتے ہیں کہ چھوٹی چھوٹی سی زمین یا چند روپیوں کیلئے ہمارے بڑے زندگی بھر ایک دوسرے کا منھ نہیں دیکھتے ہیں تو پھر ان کے ذہنوں میں بھی وہی صفات منتقل ہوں گی کیونکہ ان کی تربیت بھی پھر ویسے ہی ماحول میں ہو رہی ہے۔ مولانا نے اس موقع پر بہنوں کو ان کی وراثت کا حصہ دینے پر خاص توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ ہم پوری زندگی چاہے کتنی ہی عبادتیں کر لیں لیکن اگر ہم نے اپنی بہنوں کو وراثت میں ان کا حصہ نہیں دیا تو اللہ کی پکڑ سے بچ نہیں پائیں گے، بہنوں کے حصہ کی وراثت کا استعمال یا اس سے فائدہ حاصل کرنا بھائیوں کیلئے حرام ہے کیونکہ شریعت نے یہ حق ان کیلئے متعین کیاہے۔ مولانا نے جہیز کی دلیل دے کر وراثت میں حصہ نہ دینے کا طعنہ دینے والوں سے کہا کہ شریعت نے کسی کو جہیز دینے کا حکم نہیں دیا ہے بلکہ یہ بچی کے والدین پر ہے کہ وہ اگر بخوشی اپنی بیٹی کوکچھ دینا چاہیں تو منع بھی نہیں کیا ہے لیکن اللہ نے شریعت میں حکم دیا ہے کہ بیٹی اور بہن کو وراثت میں اسے اس کا حصہ دیا جائے۔ اس سے قبل جلسہ کا آغاز حافظ اجمل حسین نے تلاوت قرآن پاک سے کیا۔ مولانا مقبول احمد نے نعت و منقبت کا نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ جمعیۃ علماء فتح پور کے جنرل سکریٹری حافظ محمد شہباز محمودی نے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے تمام آئے ہوئے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ اجتماع میں کثیرتعداد میں پردہ نشین خواتین اور مقامی عوام نے شرکت فرمائی۔ 
سمیر چودھری دیوبند۔

Post a Comment

0 Comments

خاص خبر