گھاٹم پور مسجد دار ارقم کی اراضی پر ناجائز تعمیر کا معاملہ، وقف بورڈ کی جانب سے ناجائز قبضہ ہٹوانے اور اینٹی -زمین مافیا ایکٹ کے تحت کارروائی کرنے کے آرڈر کے بعد بھی نہیں ہوئی کارروائی: مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی، مسجد کی زمین پر ناجائز قبضہ کے معاملہ میں پولیس اور انتظامیہ کا رویہ افسوسناک، عدالت کا رخ کرے گی جمعیۃ علماء

گھاٹم پور (کانپور)۔ جمعیۃ علماء کے ریاستی نائب صدر مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی نے گھاٹم پور میں واقع مسجد دار ارقم کی 350 اسکوائر میٹر زمین پر علاقائی کارپوریٹر کی جانب سے ناجائز قبضہ کرکے اس پر شیولنگ رکھوانے کے معاملہ میں پولیس اور انتظامیہ کی سرد مہری کو لیکر سخت افسوس کا اظہار کیا ہے۔ مولانا نے کہا کہ مسجد کی زمین کے تمام قانونی دستاویزات دکھانے کے باوجود پولیس کی مجرمین سے پردہ پوشی انتہائی تعجب خیز ہے، اب جبکہ وقف بورڈ کے چیئرمین اور لیگل افسر کی جانب سے کانپور کے ضلع مجسٹریٹ اور وقف بورڈ کے ایڈیشنل سروے کمشنر کے نام ناجائز قبضہ ہٹانے اورقصورواروں کے خلاف ’اینٹی -زمین مافیاایکٹ‘ کے تحت سنگین دفعات میں کارروائی کرنے کی نوٹس بھی آچکی ہے اس کے باوجود کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ مولانا عبداللہ نے بتلایا کہ وقف کی املاک پر ناجائز طور پرقبضہ کرنا سنگین جرم کے ضمرے میں شمار کیا جاتا ہے، اس کے باوجود اصل مجرمین کو گرفتار کرنے کی بجائے مسجد کے ذمہ داران کو ہی اب تک ڈرایا دھمکایا جارہا ہے۔ مولانا نے کہا کہ موجودہ سرکار دیگر معاملوں کے ساتھ لاء اینڈ آرڈر میں بھی پوری طرح ناکام ہوچکی ہے، صوبہ اور شہر میں شہ زوروں،شرپسند وں اور مجرمانہ عمل میں ملوث عناصر کو سرکاری سرپرستی حاصل ہورہی ہے جبکہ عام شہری انصاف کے حصول کیلئے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ مولانا عبداللہ قاسمی نے بتلایا کہ شہری جمعیۃ علماء اس معاملہ کو لیکر عدالت جانے کی تیاری کر چکی ہے،جس کے لئے وکلاء کا پینل تیار ہے، عدالت کے ذریعہ ناجائز قبضہ کے قصورواروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جائے گی۔

سمیر چودھری