عدالت نے اے ٹی ایس کے ریمانڈ کے مطالبے کو کیا خارج، عدالتی تحویل میں مولانا کلیم صدیقی کو بھیجا گیا جیل۔
لکھنؤ: معروف اسلامی اسکالر اور مبلغ مولانا کلیم صدیقی کو چودہ دن کے لیے عدالتی تحویل میں  جیل بھیج دیا گیا ،جبکہ ان کے ساتھ گرفتار دیگر چار افراد کو دیر گئے چھوڑ دیئے جانے کی امید ہے۔
نوجوان مگر باصلاحیت فعال ایڈووکیٹ ابو بکر سباق نے لکھنؤ سے ’روزنامہ خبریں‘ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عدالت نے یو پی اے ٹی ایس کے رویہ اور طریق کار پر سخت پھٹکار لگائی ،یہی نہیں اس نے مولانا کے ریمانڈ سے انکار کردیا اور چودہ دن کی عدالتی حراست میں جیل بھیج دیا۔
انہوں نے بتایا کہ وکلا کی ٹیم کے مضبوط دلائل کو عدالت نے غور سے سنا۔ ایڈوکیٹ سباق نے بتایا کہ مولانا کلیم کے معاملے کو عمر گوتم کیس سے جوڑ دیا گیا ہے، اس لیے یہ تھوڑا لمبا چلے گا مگر مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ۔ا‌ن شاءاللہ مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ عدالتی کاروائی نے جمیعت علمائے ہند نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

غور طلب ہے کہ 21ستمبر کی رات کو یو پی اے ٹی نے مولانا کلیم صدیقی کو مزید چار لوگوں کے ساتھ میرٹھ سے اٹھالیاتھا جسے لکھنو لے جایاگیا اور آج دن میں اے ڈی جی لاءاینڈ آڈر پرشانت کمار نے گرفتار ی کی تصدیق کی ۔کورٹ میں پیش کرکے یو پی اے ٹی ایس نے ریمانڈ کی مانگ کی جسے عدالت نے مسترد کردیا اور 14دنوں کی عدالتی تحویل میں بھیج دیاگیا ہے ۔
ایڈووکیٹ ابو بکر سباق کے مطابق عدالت نے یو پی اے ٹی ایس کے رویہ اور طریق کار پر سخت پھٹکار لگائی ،یہی نہیں اس نے مولانا کے ریمانڈ سے انکار کردیا اور چودہ دن کی عدالتی حراست میں جیل بھیج دیا۔ وکلا کی ٹیم کے مضبوط دلائل کو عدالت نے غور سے سنا۔ ایڈوکیٹ سباق نے بتایا کہ مولانا کلیم کے معاملے کو عمر گوتم کیس سے جوڑ دیا گیا ہے، اس لیے یہ تھوڑا لمبا چلے ۔
مولانا محمود مدنی کی جمیعت علماءنے ٹوئٹر پر اعلان کیا ہے کہ مولانا محمود مدنی کے حکم پر جمیعت علماء مہاراشٹرا مولانا کلیم صدیقی کا مقدمہ لڑے گی ۔
سمیر چودھری