ای ڈی کی بڑی کارروائی: بی ایس پی کے سابق ایم ایل سی حاجی اقبال کی اتراکھنڈ میں واقع  74 کروڑ کی جائیداد ضبط کی۔
سہارنپور: ای ڈی کے لکھنؤ زون آفس نے بی ایس پی کے سابق ایم ایل سی حاجی محمد اقبال اور ان کے خاندان کے افراد کی دہرادون (اتراکھنڈ) میں واقع 74 کروڑ روپے کی زمین ضبط کر لی گئی ہے۔ یہ کارروائی منی لانڈرنگ کی روک تھام ایکٹ (PMLA) 2002 کے دفعات کے تحت کی گئی ہے۔

اس سے پہلے ای ڈی نے سہارنپور کے رہنے والے حاجی محمد اقبال اور دیگر کے خلاف پی ایم ایل اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ ای ڈی نے سہارنپور اور دہلی میں اقبال اور ان کے خاندان کے افراد کے مقامات پر بھی چھاپہ مارا اور تلاشی لی۔ یہ معاملہ کارپوریٹ امور کی وزارت نے سیریس فراڈ انویسٹی گیشن آفس (SFIO)، نئی دہلی کے ذریعہ کی گئی تحقیقات کی بنیاد پر درج کیا ہے۔ ایس ایف آئی او نے سال 2010-2011 میں اقبال کی طرف سے غیر قانونی طریقوں سے جائیدادوں کے حصول کی تحقیقات کی تھی۔

تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ اقبال اور اس کے خاندان کے افراد نے سال11- 2010 کے دوران اس وقت کی بی ایس پی حکومت کے ذریعہ نمرتا مارکیٹنگ پی لمیٹڈ اور گریشو کمپنی پی لمیٹڈ کے نام سے کاغذی کمپنیاں بنا کر شوگر ملوں کی غیر سرمایہ کاری کے لئے بولی کے عمل میں حصہ لیا تھا۔ اقبال اور دیگر فرضی ڈائریکٹروں نے جعلی لین دین کے ذریعے مختلف کاغذی کمپنیوں کے ذریعے ریاست کی سات شوگر ملوں پر قبضہ کر لیا۔ ای ڈی نے مارچ 2021 میں پی ایم ایل اے کے تحت ان تمام سات شوگر ملوں کو ضبط کر لیا تھا۔

ای ڈی کی مزید تفتیش میں یہ بھی پتہ چلا کہ مسٹر اقبال اور ان کے خاندان کے افراد نے سال 2015 میں سہارنپور میں بی ایس ایس ایسوسی ایٹس کے نام پر زمین حاصل کی تھی، جو کہ کمپنیز ایکٹ کے تحت بنائی گئی ایک دھوکہ دہی پر مبنی کمپنی تھی۔ اس کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا گیا کہ پہلے مرحلے میں اقبال اور اہل خانہ کے نام پر بینک کھاتوں میں بھاری بغیر حساب کتاب جمع کرائی گئی۔ پھر سال15-2014 کے دوران یہ رقم گلوکل انڈیا انڈسٹریز کے اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی۔ اگلے مرحلے میں گلوکل انڈیا انڈسٹریز کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کی گئی رقوم کو منتقل کیا گیا اور گلوکل انڈیا انڈسٹریز نے BSS ایسوسی ایٹس کے حصہ خریدنے کے لیے مزید استعمال کیا۔ اس عمل میں اقبال اور دیگر نے کمپنیز ایکٹ کے تحت دھوکہ دہی کی اور دہرادون میں زمین کی شکل میں جائیداد بنائی۔

سمیر چودھری۔