جموں کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا بڑا بیان، کہا ’’گوڈسے کے ہندوستان کے ساتھ نہیں رہ سکتے، ہمیں گاندھی-نہرو کا ہندوستان چاہئے۔
نئی دہلی: جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ہندوستان کو کشمیر کے معاملے پر پاکستان سے بات کرنی چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر بھارت طالبان سے بات کر سکتا ہے، چین سے بات کر سکتا ہے تو پاکستان سے بات کیوں نہیں کر سکتا۔ محبوبہ نے کہا جب میں کہتی ہوں کہ پاکستان سے بات کریں، آج وہ طالبان سے بات کر رہے ہیں۔ آج وہ چین سے بات کر رہا ہے جس نے ہماری زمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔ لیکن جب محبوبہ مفتی کہتی ہیں کہ جموں میں امن قائم کرنے کے لیے پاکستان سے بات کریں تو وہ کہتے ہیں کہ وہ غدار ہیں۔ یہ ملک دشمنی ہے۔ پتہ نہیں کیوں؟"
انہوں نے کہا کہ اگر جموں و کشمیر کو اپنے ساتھ رکھنا ہے تو 370، 35 اے اور کشمیر کے مسئلے کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا، لاٹھی، بندوق، لاشوں کو دبانے کے بل بوتے پر کشمیر کو ساتھ نہیں رکھ سکتے۔ امریکہ بندوق کے زور پر افغانستان پر حکومت بھی نہ کر سکا۔
اس کے بعد انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ہم گوڈسے کے ہندوستان کے ساتھ نہیں رہ سکتے، ہم گاندھی کا ہندوستان چاہتے ہیں، ہم نہرو کا ہندوستان چاہتے ہیں، ہم اپنا ہندوستان واپس چاہتے ہیں، ہم وہ واپس چاہتے ہیں جو ہندوستان کے آئین نے ہمیں دیا ہے۔

بی بی سی ہندی اور نیوز ایجنسی اے این آئی کے ان پٹ کے ساتھ۔

DT Network