زرعی قوانین کی منسوخی کا فیصلہ کسانوں کے عزم وحوصلہ کی جیت، آل انڈیا ملی کونسل کا شہریت ترمیمی قانون کو بھی واپس لینے کا مطالبہ۔
نئی دہلی:(پریس ریلیز) زرعی قوانین کی منسوخی کا فیصلہ کسانوں کے عزم اور حوصلہ کی فتح ہے ۔ کسانوں نے زرعی قوانین کے خلاف طویل جدوجہد کی ، ایک سال تک وہ لگاتار احتجاج کرتے رہے ، بارش طوفان ، پولس کا ظلم سبھی کا انہوں نے پوری ہمت سے مقابلہ کیا جس کے بعد سرکار کو ان کے عزم کے سامنے جھکنا پڑا اور واپس لینے کا اعلان کیاگیاہے ۔ ان خیالات کا اظہار آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹرمحمد منظور عالم نے کیا ۔
انہوں نے مزید کہاکہ جمہوریت میں جب بھی عوامی مفاد کے خلاف سرکار نے کوئی فیصلہ لیاہے عوام نے سڑکوں پر اترکر احتجاج کیاہے اور سرکار کو اس کی غلطیوں کو احساس کرایاہے ، یہ بات خوش آئند ہے کہ سرکار نے اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے قانون واپس لینے کا اعلان کیاہے لیکن اسے حتمی او ریقینی اعلان اسی وقت سمجھا جائے گا جب پارلیمنٹ میں باضابطہ اس کی منسوخ کا اعلان کیا جائے گا ۔تاہم کسانوں نے تسلسل کے ساتھ احتجاج کرکے یہ ثابت کردیاہے اور یہ پیغام بھی دیا ہے کہ اگر پختہ عزم اور حوصلہ کے ساتھ لڑائی لڑی جائے گی تو یقینی طور پر کامیابی ملے گی ۔

ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کہاکہ دستور مخالف قانون واپس لینے کا اعلان بہتر قدم ہے لیکن سی اے اے ، این آر سی اور تین طلاق کے خلاف سڑکوں پر اترکر احتجاج کرنے والے بھی اسی ملک کے شہری تھے، وہ قوانین بھی آئین مخالف تھے لیکن سرکار نے ان لوگوں کے احتجاج پر کوئی توجہ نہیں دی ۔ آخر کیوں ؟ ۔ کسانوں نے شاہین باغ سے ہی حوصلہ پاکر یہ تاریخی احتجاج کیا ہے لیکن ابھی تک شاہین باغ کے مطالبات پورے نہیں کئے گئے ہیں ۔ سرکار کو چاہیئے کہ زرعی قوانین کے ساتھ شہریت ترمیمی قانون کی منسوخی کا بھی اعلان کرے کیوں کہ یہ بھی آئین اور دستور مخالف ہے اور تقریبا تین مہینہ سے زیادہ دنوں تک پورے ملک میں عوام نے احتجاج کیاتھا ۔

سمیر چودھری۔