مولانا سید محمد ازہر شاہ قیصرؒ، ادب وصحافت کی ایک یادگار شخصیت: (مولانا) نسیم اختر شاہ قیصر۔
اللہ نے جسے لکھنے کی صلاحیت دی ہے وہ لائقِ اکرام ہے، لکھنے والا اس انعامِ الٰہی کو مثبت سوچ اور عمدہ فکر کے ساتھ لے کر چلتا ہے تو یہ اللہ کا مزید احسان اور فضل ہے، قلم کی دولت سے ہر کوئی نہیں نوازا گیا۔ کروڑوں اور لاکھوں انسانوں میں منتخب افراد ہی ہیں جو اس میدان میں اپنے جوہر دکھا رہے ہیں، کچھ ہی لوگ ہیں جنہوں نے قلم سے وابستگی اور رشتہ کو اپنے لئے اعزاز جانا اور اللہ کے اس کرم اور مہربانی کا شکر اس انداز میں ادا کیا کہ زندگی کا اکثر حصہ قلم کی خدمت میں گزرگیا۔
ہندوستان کے ہر قصبہ اور شہر میں قلم کے محافظین پیدا ہوتے رہے، ان کی قلمی فتوحات کے سلسلے اتنے مضبوط اور مستحکم رہے کہ تاریخ نے انہیں اپنے صفحات پر جگہ دی اور لوگوں نے ان کو اپنے دل کی دھڑکن اور اپنی سوچ وفکر کا محور جانا۔ ان لکھنے والوں میں بے شمار وہ تھے جن کی قلم کاری مثالی تھی، جن کی تحریروں میں دیدہ وری، اعلیٰ فکراور بلند خیالات کے ساتھ رعنائی، دلکشی، جاذبیت، حسن، سلاست، ادبیت، جرأت، حق بیانی، درد مندی، دل سوزی، اسلوب کی خوشبو، انشاء کی رفعت اور زبان کی مہک تھی، تعمیری ذہن رکھنے والے یہ افراد تحریرو قلم کے ایسے نمائندے تھے کہ دہائیوں کے گزرنے کے بعد بھی ان کی خدمات زندہ اور ان کے نام باقی ہیں۔ ایسے ہی نامور ادیبوں، صحافیوں، قلم کاروں میں ایک نام مشہور ادیب، صحافی، انشاء پرداز مولانا سید محمد ازہر شاہ قیصرؒ کا بھی ہے، جن کی پیدائش دیوبند کی علمی سرزمین پر ہوئی اور جنہوں نے ایک عالمِ بے بدل، محدّثِ وقت اور امام العصرؒ کے گھر میں آنکھیں کھولیں۔ امام العصر حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ عالمِ اسلام کی ایک مقتدر علمی شخصیت تھے، ان ہی کے سب سے بڑے فرزند مولانا سید محمد ازہر شاہ قیصرؒ نے ادب وصحافت کے میدان میں قدم رکھا اور شہرت وناموری کی منزلیں طے کیں۔
دیوبند خوش نصیبوں کی بستی ہے یہاں علم وفضل کی حامل شخصیات، کمال وفن کی مالک ہستیاں، تدریس، تقریر، تحریر، تحقیق کے میدان سے تعلق رکھنے والے لوگ ہر دور میں پیدا ہوتے رہے۔ اردو ادب وصحافت کے مقتداؤں کی فہرست میں دیوبند کے جن افراد کے نام بلاتکلف لکھے جاسکتے ہیں ان میں انور صابریؒ، عامر عثمانیؒ، سید محبوب رضویؒ، جمیل مہدیؒ، انظرشاہ کشمیریؒ کے بغیر یہاں کی ادبی تاریخ کے ساتھ انصاف نہیں کیا جاسکتا، ان کے بعد کی نسل میں بھی کافی لوگ ہیں جن میں سے کچھ دنیا سے گزرگئے اور اللہ کے فضل سے کافی حیات ہیں جنہوں نے دیوبند کی صحافت کو اور ادبی سلسلے کو نئے رنگ وآہنگ اور جذبوں سے آراستہ کررکھا ہے۔
مولانا سید محمد ازہر شاہ قیصرؒ گونا گوں صلاحیتوں سے مالا مال تھے، ادب کی مختلف النوع اصناف سے ان کی زندگی عبارت تھی، انہوں نے صحافت کی سنگلاخ وادیوں میں بھی اپنی فکر کے چراغ جلائے، علمی مقالات میں بھی اپنی انفرادیت کے پھریرے اڑائے، شخصی مضامین میں بھی مہارت کے ثبوت دیئے، خاکہ نگاری میں دسترس کے نمونے پیش کئے۔ انہوں نے اردو صحافت کا زرّیں دور پایا تھا، متحدہ ہندوستان کا روشن زمانہ دیکھا تھا، ان کی پیدائش 6/ جون 1920کو ہوئی، تقسیم سے پہلے انہوں نے دہلی، لاہور جیسے ادبی اور صحافتی مراکز کی خوب سیر کی اور اس دور کے شہرہئ آفاق شاعروں، صحافیوں، ادیبوں سے استفادہ بھی کیا اور قربتیں بھی پائیں۔ زندگی کی ابتدائی منزلوں میں ہی انہوں نے قلم تھام لیا اور لاہور سے اخبار ”اجتماع“ جاری کیا۔ دوڈھائی سال اخبار کامیابی کے ساتھ نکلتا رہا، مگر والدہ کے پیہم تقاضوں کی بنا پر انہیں لاہور چھوڑنا پڑا اور وہ دیوبند آگئے۔
ان کے مضامین ہندو پاک کے معروف اخبارات ورسائل میں 50سال تک شائع ہوتے رہے، اس عرصہ میں انہوں نے ماہنامہ ”خالد“ماہنامہ ”طیب“ ماہنامہ ”ہادی“ ماہنا مہ ”دارالعلوم“ ترجمان دارالعلوم دیوبند، پندرہ روزہ ”الانور“ پندرہ روزہ ”اشاعتِ حق“ پندرہ روزہ ”استقلال“ وغیرہ کی ادارت کے فرائض انجام دیئے، ان کی ادارت کا لمبا عرصہ ماہنامہ ”دارالعلوم“ دیوبند کی ادارت کا رہا۔ ان کے دورِ ادارت میں ماہنامہ ”دارالعلوم“ نے اعتبار، کامیابی، دلپذیری اور ترقی کی، قابل ذکر مثال قائم کی، قلم کی ندرت ورعنائی، انفرادیت وجامعیت کے ساتھ اللہ نے انہیں انتظام کی بھی بہترین صلاحیت اور سلیقہ عطا فرمایا تھا، یہی سبب تھا کہ ماہنامہ ”دارالعلوم“ شہرت کی بلندیوں تک پہنچا اور اپنے زمانہ میں اس کا شمار مقبول ترین پرچوں میں ہوا۔ اس کی اشاعت بھی دیگر دینی پرچوں کے مقابلے میں خوب رہی اور وہ وابستگانِ دارالعلوم، محبانِ دارالعلوم اور اہل علم کا محبوب پرچہ بنارہا۔ اس کے خریداروں کی تعداد بھی اچھی خاصی تھی، ادارہ کی ترجمانی کا فریضہ بھی ماہنامہ ”دارالعلوم“نے خوب ادا کیا۔
ماہنامہ ”دارالعلوم“ کی کامیابی کا ایک رُخ یہ بھی ہے کہ مولانا سید محمد ازہر شاہ قیصرؒ نے پرانے اور نئے لکھنے والوں کی ایک ایسی ٹیم بنائی جن کے علمی، ادبی، تحقیقی مضامین پابندی کے ساتھ رسالہ ”دارالعلوم“ میں شائع ہوتے۔ فضلائے دارالعلوم میں سے جتنے قدیم لکھنے والے تھے ان کے رشحاتِ قلم کو ماہنامہ ”دارالعلوم“ کے صفحات پر جگہ دی اور نئی نسل کے نوجوان لکھنے والوں کا حوصلہ بڑھایا اور ان کی تخلیقات کو نمایاں طور پر ماہنامہ ”دارالعلوم“ میں شائع کیا۔ مولانا سید محمد ازہر شاہ قیصرؒ کو ربِّ کائنات نے تحریروقلم کی دنیا کے لئے ہی پیدا فرمایا تھا، ان کی زندگی کا بڑا حصہ کاغذ اور قلم کے تعلق کو قائم رکھنے میں ہی گزرا۔
مولانا سید محمد ازہر شاہ قیصرؒ کا مطالعہ یک جہتی نہیں تھا بلکہ انہو ں نے مختلف جہات میں مطالعہ کا رشتہ قائم کیا اور علمی، تحقیقی کتابوں کے ساتھ ادبی مطالعہ کو بھی بڑی اہمیت دی۔ پڑھنا اور لکھنا یہی ان کی زندگی تھی، یہی صبح اور یہی شام مولانا کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے قلم کو اپنے معاش کا ذریعہ نہیں بنایا، بلکہ وہ قدیم لوگوں کی طرح اخلاص وجذبِ دروں کے ساتھ لکھتے رہے اور مسلسل لکھتے رہے۔ دیوبند میں جو چند نام شہرت وعظمت رکھتے ہیں ان میں سے سبھی رخصت ہوگئے لیکن ان کی خدمات کے نقوش اتنے گہرے ہیں کہ وہ مٹیں گے نہیں اور یہ بھی دیوبند کی بڑی خوش نصیبی ہے کہ اس نسل کے بعد ایک دوسری نسل کھڑی ہوگئی اور اس نے اس سلسلے کو تازگی اور توانائی سے گزارا، آج بھی یہاں لکھنے اور پڑھنے والوں کی کمی نہیں، ان سب کا اپنا اسلوب ہے اور اپنے پسندیدہ موضوعات، ان موضوعات کے انتخاب میں بھی ان لوگوں نے ہمیشہ اس کا اہتمام کیا ہے کہ وہ ایک عام آدمی سے لے کر خاص آدمی تک کے موضوعات بنیں اور وہ سچی اور کھری باتیں لوگوں تک پہنچائیں۔ مولانا سید محمد ازہر شاہ قیصرؒ 65سال اس عالمِ فانی سے متعلق رہے اور 27نومبر 1985کو ان کی کتابِ زندگی مکمل ہوگئی۔