بددماغ اور سی گریڈ اداکارہ کے ذریعہ آزادی کو بھیک بتانا: حسام صدیقی۔
 جسم کی ’بے ہودہ نمائش، چرس، گانجا اور دیگر نشیلی دواؤں کے اثر میں پوری پوری رات لڑکوں کے ساتھ گزار کر سی گریڈ فلموں میں کام پانے و الی ہماچل کی بدزبان لڑکی کو وزیراعظم نریندر مودی کی مہربانیوں سے پدم شری سمیت کئی نیشنل ایوارڈ مل گئے تو وہ پاگل سی ہوگئی اور یہ کہہ دیا کہ پندرہ اگست ۱۹۴۷ کو انگریزوں نے گاندھی کو بھیک میں آزادی دی تھی ملک کو اصل آزادی تو ۲۰۱۴ میں ملی ہے۔ اس بددماغ خاتون کے مطابق ملک میں جب مودی کی سرکار آگئی تبھی ملک آزاد ہوا، اس سے پہلے کی آزادی بھیک میں ملی ہوئی تھی۔ ہم اس بددماغ عورت کا نام بھی نہیں لکھنا چاہتے اس پر مضمون لکھنا بھی مناسب نہیں تھا لیکن اس نے بات ہی ایسی کہہ دی کہ مجبوراً لکھنا پڑرہا ہے۔ حیرت اس بات کی ہے کہ جس وقت دماغی توازن کھوچکی یہ عورت’ٹائمس ناؤ‘ نام کے چینل میں ایسی بات کہہ رہی تھی مودی کی غلامی میں لگ چکی اینکر نویکا کمار اسے کچھ کہنے کے بجائے ہنس رہی تھی اس سے بھی زیادہ شرمناک بات یہ تھی کہ ہال میں جو لوگ بیٹھے تھے ان میں کئی لوگ تالیاں بجا رہے تھے۔ یہ کون لوگ ہیں اور نویکا کمار کیسی اینکر ہیں کہ آزادی کے لئے جن ہزاروں لوگوں نے اپنی جانیں ملک پر قربان کردیں ان کی اتنی بڑی توہین کو صرف برداشت ہی نہیں کیابلکہ اس بے ہودہ خاتون کی بات پر تالیاں بجائیں۔ اس سے پہلے بی جے پی یوا مورچہ کی ایک خاتون عہدیدار ایک ٹی وی چینل پر کہہ چکی ہیں کہ جو آزادی ہمیں ملی وہ ننانوے سال کی لیز پر ملی ہے۔

اس قسم کی بے ہودہ باتیں یوں ہی نہیں ہورہی ہیں حکومت میں بیٹھے لوگ ملک اور ملک کی آزادی کی تاریخ کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں اسلئے وہ آزادی کو بھیک بتانے والی خاتون کی ہرسطح پر حوصلہ افزائی کررہے ہیں اور وہ کچھ بھی اناپ شناپ بول دے برسر اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے اس کے خلاف ایک بیان تک نہیں آتا، یہ کس طرف اشارہ ہے ، یہی نہ کہ بی جے پی ایسے لوگوں کی باتوں کے سہارے سیاست کرنا چاہتی ہے۔ اس طرح کی باتیں ابھی تو چھٹ پٹ ہوتی رہیں گی بعد میں ایسی ہی باتوں کو ملک کی تاریخ بتایا جانے لگے گا۔
۲۰۱۴ میں ملک کو اصل آزادی ملی، اس بات سے اقتدار میں بیٹھے وزیراعظم نریندر مودی سمیت کئی لوگ بہت خوش ہوتے ہیں۔ یہ بات پہلی بار نہیں کہی گئی ہے ۲۰۱۴ میں بھی آر ایس ایس کے کچھ لوگوں نے کہا تھا کہ ملک کو ہزار سال کی غلامی کے بعد آزادی ملی ہے۔ ان کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ مغلوں انگریزوں اور پھر کانگریس کے بعد ملک میں پہلی بار خالص ہندوؤں کی سرکار بنی ہے۔ یہی بات اب اس بے ہودہ اداکارہ نے گھما پھرا کر کہنے کی کوشش کی ہے۔ اگر اس کی بات سچ مان لی جائے تو گجرات کو باقی بھارت کے مقابلے بارہ تیرہ سال پہلے اس وقت آزادی مل گئی تھی جب ۲۰۰۱ میں نریندر مودی گجرات کے وزیراعلیٰ بنے تھے۔ گجرات میں بھی نریندر مودی نے یہی ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ ان کی قیادت میں گجرات میں جو سرکار ہے وہ خالص ہندوؤں کی سرکار ہے۔ اسی لئے تو گودھرا اسٹیشن پر ہوئے شرمناک و اقعہ کے بعد احمد آباد سمیت گجرات کے کئی بڑے شہروں میں باقاعدہ سرکاری پشت پناہی میں مسلمانوں کا قتل عام کرایا گیا تھا۔
پندرہ اگست ۱۹۴۷ کو ملی آزادی کو گاندھی کو ملی انگریزوں کی بھیک بتانے والی سی گریڈ فلموں کی اداکارہ کو مودی حکومت نے پدم شری ایوارڈ سے بھی نوازا اس کے ساتھ محض دو سال پہلے ہندوستانی شہریت حاصل کرنے والے پاکستانی گلوکار عدنان سمیع، فلمساز کرن جوہر اور ٹی وی سیریلوں کی ملکہ کہی جانے والی ایکتا کپور کو بھی پدم شری دیا گیا۔ ان چاروں کو پدم شری دینے کے علاوہ ملک کا کوئی دوسرا شخص یہ نہیں جانتا ہے کہ آخر ملک اور سماج کے لئے ان چاروں کا ایسا کون سا تعاؤن ہے جس کے لئے انہیں پدم شری دیا گیا۔ ایک اداکار نے تو بیان دے کر بتا دیا کہ اسے پدم شری کیوں دیاگیا ہے، باقی تین خاموش ہی ہیں۔ اس اداکارہ کو موجودہ سرکار نے منی کرنیکا فلم میں جھانسی کی رانی کا رول ادا کرنے اور پنگا فلم کے لئے نیشنل ایوارڈ دے دیا۔ اس وقت بھی کسی کی سمجھ میں نہیں آیا تھا کہ اس بے ہودہ اور بدزبان خاتون نے ہاتھ میں لکڑی کی تلوار اور لکڑی کے گھوڑے پر بیٹھ کر اداکاری کے میدان میں کون سا ایسا تیر ماردیا تھا جس کے لئے اسے ایک نہیں دو دو نیشنل ایوارڈ اور اس کے بعد اب پدم شری دے دیا گیا۔ ٹی وی پر آزادی سے متعلق اس کے بیان سے پتہ چلا کہ مودی حکومت اسے بار بار ایوارڈ دے کر کس مقصد کے لئے تیار کررہی ہے۔

آزادی کو بھیک بتانے اور ۲۰۱۴ میں اصل آزادی ملنے کی بات کرنےوالی اس بددماغ خاتون کو یہ بھی یاد نہیں کہ ۲۰۱۴ تک وہ اس ملک میں آزادی کے ساتھ گھوم سکتی تھی لیکن جس مودی سرکار کو وہ اصل آزادی بتا رہی ہے اس میں وہ وائی پلس سکیورٹی کے درجنوں کمانڈوز کے بغیر سانس بھی نہیں لے سکتی۔ اس نے گاندھی کی توہین کی، چندر شیکھر آزاد، بھگت سنگھ، سکھ دیو، منگل پانڈے، لکشمی بائی، اشفاق اللہ خان، راج گرو اور رام پرساد بسمل سمیت ان ہزاروں شہیدوں کی توہین کردی، جنہوں نے ملک کے لئے اپنی جان دی۔ حد یہ ہے کہ جن سردار پٹیل کو مودی اور ان کی بی جےپی کانگریس سے چھین کر اپنا بتانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ان کی بھی توہین کردی۔ بی جے پی کے واحد لوک سبھا ممبر ورون گاندھی نے اس کے بیان پر اعتراض کیا تو اس نے انہیں بھی کھری کھوٹی سنا دی۔ اس معاملے میں پورا ملک ایک طرف ہوگیا اس کے باوجود وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی پارٹی اور سرکار کے کان پر جوں تک نہیں رینگی جبکہ اس خاتون پر سیدھے سیدھے غداری کا معاملہ بنتا ہے۔

اداریہ
جدید مرکز، لکھنؤ
مؤرخہ ۲۱ تا ۲۷ نومبر، ۲۰۲۱