سلمان خورشید کے خلاف ہنگامہ آرائی قابل مذمت: آل انڈیا امامس کونسل
اجین، ایم پی(پریس ریلیز) کانگریس کے قدآور لیڈر و سابق وزیر خارجہ سلمان خورشید سابق صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر ذاکر حسین کے حقیقی نواسے ہیں۔ ڈاکٹر ذاکر حسین کی ملکی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ ان کی حب الوطنی قابل رشک ہے۔ سلمان خورشید کا طویل سیاسی سفر اسی جذبے کے ساتھ جاری وساری ہے جو ان کو اپنے نانا سے وراثت میں ملا ہے۔ حال ہی میں ان کی ایک کتاب شائع ہوئی ہے اس میں اگر انھوں نے ایک مخصوص نظریے کے لوگوں کو آئینہ دکھایا ہے تو اس پر تلملانے اور واویلا مچانے کے بجاۓ اپنی تخریبی سوچ اور ملک کو تباہی کی طرف لے جانے والی روش کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے نا کہ آئینہ دکھانے والے کے خلاف ہلا بول کر آواز حق کو دبانے کی گھناؤنی کوشش کرنے کی۔ سلمان خورشید کے گھر پر حملہ کرنا، اس کو نذرآتش کرنا اور لاکھوں کا مالی نقصان پہنچانا، حق پسندوں کو ڈرانے کی ناکام کوشش ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ سنگھ پریوار کا اپنے مہیب چہرے پر پردہ ڈال کر ملک و عوام کو دھوکا دینا نہ تو کوئی حب الوطنی ہے اور نہ ہی ملک و ملت کے ساتھ وفاداری۔
سلمان خورشید کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے، وہ سنگھی غنڈوں کا ملک اور ملک میں حق کی آواز بلند کرنے والوں کے خلاف مجرمانہ ریکارڈ ہے۔ جو انتہائی قابل مذمت ہے۔ ایسے عناصر کے خلاف قانونی کارروائی لازمی ہے۔
ان باتوں کااظہار آل انڈیا امامس کونسل مدھیہ پردیش کے صدر مولانا عاصم سراجی نے اپنے صحافتی بیان میں کیا۔
مولانا سراجی نے کہا کہ: سلمان خورشید کے گھر پر یہ حملہ سخت تشویشناک ہے؛ کیوں کہ جب لوک تنتر میں قومی سطح کے لیڈر اپنی تمام تر خدمات کے باوجود محفوظ نہیں ہیں تو عام انسان اور دوسری کمیونٹی کے دبے کچلے لوگ کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں. یہ واضح اشارہ ہے کہ اب اس ملک میں سیکولر دستور کا راج نہیں ہے؛ بلکہ ایسے لوگ ملک چلا رہے ہیں جنکی نظر میں بھارت کے آئین کا کوئی احترام نہیں ہے"۔
آل انڈیا امامس کونسل مدھیہ پردیش کے جنرل سکریٹری مولانا اسلم میواتی نے کہا کہ: "سلمان خورشید ایک ایسے سیاست دان ہیں جنھوں نے بین الاقوامی فورمز پر بھارت کا سر فخر سے بلند کیا ہے"۔
 مولانا میواتی نے کہا کہ: "بھارت سرکار کو چاہیے کہ وہ اقلیتوں کی حفاظت کو یقینی بنائے اور جس طرح بھارت میں لگاتار مسلمانوں پر حملہ ہورہاہے۔ ماب لنچنگ کی جارہی ہے۔ مسلمانوں کا فرضی انکاؤنٹر کیا جارہا ہے۔ الزام لگاکر مسلمانوں کو جیلوں میں بند کیا جارہاہے۔ روزگار کی کوئی بات نہیں ہو رہی۔ عوام کی فلاح وبہبود کے تئیں حکومت کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھا رہی ہے۔ حکومت ہر محاذ پر فیل ہے۔ بس اس کے پاس یہی رہ گیا ہے کہ جو اس کی پالیسیوں کی مذمت کرے اس پر شکنجہ کس دو؛ لیکن مجرموں اور دنگائیوں کے خلاف ایکشن لینے کی کوشش بالکل نہیں کی جاتی ہے۔
آل انڈیا امامس کونسل کی بھارت سرکار سے اپیل ہے کہ: سرکار اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرے۔ ملک کے ماحول کو پرامن بنائے۔ اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرے اور ان پر ہونے والے لگاتار حملوں کو روکے اور جو لوگ اس طرح کے حملوں میں ملوث ہیں انہیں سخت سے سخت سزا دے۔