گروگرام میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی کا تنازع ختم، مشترکہ میٹنگ میں 18مقامات پر نماز کی ادائیگی کیلئے ہندومسلم متفق۔
گروگرام (ایجنسیاں) : گروگرام میں عوامی مقامات پر نماز کو لے کر تنازع ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے کیونکہ اس مسئلہ پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے آنے والے ہندو اور مسلم گروپوں نے نماز کیلئے 18 جگہوں پر اتفاق کیا ہے۔ ان میں سے 12 مساجد اور 6 عوامی میدان ہیں۔ وقف بورڈ کی اراضی ملتے ہی 6 عوامی مقامات پر نماز ادا نہیں کی جائے گی۔ ہندو سنگھرش سمیتی نے بھی کہا ہے کہ اس معاہدے کے ساتھ ہی تنازع ختم ہو گیا۔ گروگرام انتظامیہ کے ساتھ مشترکہ میٹنگ میں دونوں فرقہ کے نمائندوں نے نماز پڑھنے کیلئے نئی جگہوں پر اتفاق کیا، جس میں 12 مساجد شامل ہیں۔ اس کے علاوہ6 عوامی مقامات مختص کیے گئے ہیں، جہاں کمیونٹی کی جانب سے حکام کو ان جگہوں کے استعمال کیلئے قانونی کرایہ ادا کرنے کے بعد نماز ادا کی جائے گی۔معاہدے کے بعد 20 عوامی مقامات پر نماز نہیں پڑھی جائے گی، جہاں اکثر مظاہرے ہوتے تھے، خاص طور پر سیکٹر 37 کے مقام پر، جہاں گزشتہ جمعہ کو صورتحال غیر مستحکم ہوگئی تھی۔ مساجد کے علاوہ میٹنگ میں منظور شدہ 6 جگہوں میں اٹلس چوک ایچ ایس آئی آئی ڈی سی گراؤنڈ، پیپل چوک ہڈا لینڈ ادیوگ وہار فیز 2، اسپائس جیٹ آفس ہڈا لینڈ ادیوگ وہار کے بالمقابل، لیزر ویلی گراؤنڈ، ہڈالینڈ گولف کورس روڈ، سیکٹر 42 اور سیکٹر 69 ہڈا لینڈ شامل ہیں۔
ہندو سنگھرش سمیتی کے صدر مہاویر بھاردواج نے کہا کہ12 مساجد کے علاوہ، ہم نے 6 عوامی میدانوں پر اتفاق کیا ہے، جنہیں ہمارے مسلمان بھائی یا امام تنظیم ہر جمعہ کو کرایہ پر دینے پر راضی ہیں۔ وہ ان جگہوں کو اس وقت تک استعمال کریں گے، جب تک کہ ان کی وقف بورڈ کی جائیدادیں خالی نہیں کر دی جاتیں یا انہیں دی جاتی ہیں۔ ان 18 منظور شدہ جگہوں میں سے کسی پر کوئی اعتراض یا مداخلت یا احتجاج نہیں ہوگا۔ ہمارے لیے اس تصفیے سے مسئلہ ختم ہو گیا ہے۔واضح رہے کہ نماز کو لے کر گزشتہ ایک ماہ سے تنازع چل رہا تھا۔ تاہم تصفیہ کے بعد اب امن کی امید کی جا سکتی ہے، لیکن پولیس کسی بھی قیمت پرتساہلی نہیں برتے گی۔ گروگرام پولیس نے کہا کہ وہ اب بھی تمام مقامات پر سیکورٹی کو یقینی بنائے گی، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ شہر میں کوئی خلل یا کشیدگی نہ ہو۔ دوسری جانب حالیہ دنوں میں گروگرام میں بڑھتی کشیدگی کے درمیان چند امن پسند لوگوں نے کل ایک میٹنگ کا انعقاد کیا ہے، جس میں حالات کو سازگار بنانے کیلئے لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔ ساتھ ہی اس سلسلے میں ایک پریس کانفرنس بھی منعقد کی جائے گی۔