زرعی قوانین کی واپسی کے بعد سی اے اے اور این آر سی سے بھی قدم پیچھےکھینچ رہی مودی سرکار کار؟
نئی دہلی: مرکز کی مودی حکومت کے ذریعے زرعی قوانین کو واپس لیےجانے کی بعد سے سی اے اے اور این آر سی جیسے قوانین کی بھی واپسی کے مطالبے نے تیزی پکڑلی ہے، اس درمیان حکومت کی طرف سے صاف کیا گیا ہے فی الحال این آر سی کو نافذ کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے جبکہ سی اے اے کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد ہی اس قانون کا کے ذریعے پڑوسی ممالک کے اقلیتوں کو شہریت دی جائیگی ہے۔  حکومت کے ذریعے پارلیمنٹ میں دیے گئے اس جواب سے یہ قیاس آرائیاں بھی لگنے لگی ہیں فی الحال حکومت ان متنازع قوانین کو ٹھنڈے بستے میں ہی ڈال دینا چاہتی ہے۔

نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کی خبر کے مطابق حکومت نے ابھی تک ملک گیر نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی) کو تیار کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں لیا ہے۔ حکومت نے منگل کو سرمائی اجلاس کی کارروائی کے دوران لوک سبھا میں ایوان کو مطلع کیا۔ لوک سبھا میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے کہا کہ شہریت (ترمیمی) ایکٹ 2019 (سی اے اے) کو 12 دسمبر 2019 کو پاس کیا گیا تھا اور 10 جنوری 2020 میں نافذ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ سی اے اے کے تحت آنے والے لوگ قانون کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد شہریت کیلئے درخواست دے سکتے ہیں۔ 
ایک سوال کے تحریری جواب میں نتیا نند رائے نے کہا کہ ابھی تک حکومت نے قومی سطح پر ہندوستانی شہریوں کے قومی رجسٹر (این آر آئی سی) کو تیار کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ رائے نے کہا کہ جہاں تک آسام کا تعلق ہے، این آر سی میں شامل کرنے کیلئے ضمنی فہرست کی ہارڈ کاپی اور آن لائن کنبہ کے لحاظ سے اخراج کی فہرست سپریم کورٹ کی ہدایت پر 31 اگست 2019 کو شائع کی گئی ہے۔

غور طلب ہے کے جس قانون کو مودی حکومت 2019 میں پارلیمینٹ میں پورے زور شور کے ساتھ لائی تھی اور اسے تاریخی قرار دیتے ہوئے بی جے پی نے سی اے اے اور این آر سی کے نام پر ووٹ حاصل کر نے با وجود دو سال بعد بھی نوٹیفیکشن جاری نہ کیا جانا اور نافذ نہ ہونے سے صاف ہوگیا ہے شاید حکومت ہے ان متنازع قوانین سے فی الحال اپنے قدم پیچھے کھینچنا چاہتی ہے۔

DT Network