بہار- غربت میں سب سے آگےمفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ۔
نیتی آیوگ نے ہندوستان میں غربت کے اعداد وشمار (ایم پی آئی) جاری کیے ہیں، جس کے مطابق غربت کا تناسب بہار میں ۹۱ء ۵۱، جھارکھنڈ میں ۱۶ ئ۴۲، اتر پردیش میں ۸۹ء ۳۷، مدھیہ پردیش میں ۶۵ء ۳۶اور میگھالیہ ۶۷ء ۳۲ فی صد ہے یعنی بہار غربت میں اول نمبر پر ہے اس کے بعد چار ریاستیں سب سے زیادہ غریب ہیں، جب کہ کیرل ۷۱ئ۰ ، گوا ۷۶ئ۳، سکم ۸۲ئ۳، تامل ناڈو ۸۹ئ۴، پنجاب ۸۹ئ۵، فی صد کے ساتھ ہندوستان کے مالدار ترین ریاستوں میں شامل ہے، یعنی یہ سب سے کم غریب ریاستیں ہیں، اسکولی تعلیم ، کھانا پکانے کا ایندھن اور بجلی سے محروم آبادی کے اعتبار سے بھی بہار کی حالت سب سے خراب ہے ، حالاں کہ دعویٰ حکومتی سطح پر ہر گھر بجلی پہونچادینے کا برسوں سے کیا جا رہاہے ، سارے اضلاع کی حالت یکساں نہیں ہے ، پٹنہ، مظفر پور، گیا اور بھاگلپور نسبتاًمالدار اور امیر اضلاع کی فہرست میں ہیں، جب کہ کشن گنج ، ارریہ، مدھے پورا، مشرقی چمپارن ، سوپول، جموئی، سیتامڑھی، پورنیہ ، کٹیہار اور شیوہر میں ساٹھ فی صد سے زیادہ غربت کی زندگی جی رہے ہیں۔

نیتی آیوگ کے نائب صدر راجیو کمار نے اس رپورٹ کے بارے میں بتایا کہ ہندوستان میں ایم پی آئی مختلف قسم کی غربت کا اندازہ لگاتا ہے، اور اس کے اسباب وعوامل سے لوگوں کو آگاہ کرتا ہے ۔ اس اعداد وشمار کی تیاری میں بارہ قسم کے احوال ومعاملات کے اعداد وشمار جمع کیے جاتے ہیں،جن میں صحت ، تعلیم معیار زندگی، پر خصوصی توجہ مرکوز رکھی جاتی ہے ، بہار کے وزیر تعلیم وجے کمار چودھری نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک غیر عملی تجزیہ ہے اور نیتی آیوگ کے ترقیات کے ناپنے کا پیمانہ ہی درست نہیں ہے ، وہ ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ریاستوں کو ایک ہی نظر سے دیکھتا ہے، حالاں کہ جو ریاست اپنے وسائل سے ترقی کے منازل طے کر رہی ہے ، اس کو الگ خانہ میں رکھنا چاہیے، اس رپورٹ سے ایسی ریاستوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے جو اپنے ہی وسائل پر ترقی کے لیے انحصار کر رہی ہیں۔
صورت حال جو بھی ہو، حکمراں طبقہ جو کچھ ہمیں بتاتا رہا ہے اور ریاست میں ترقی کی جس تیز ہوا کا تذکرہ ہمارے سیاست داں کرتے نہیں تھکتے اس میں صداقت نہیں ہے ، نیتی آیوگ کی یہ رپورٹ تو یہی کہہ رہی ہے۔