Latest News

نئے سال کی مبارکباد دینا کس طرح جائز ہے؟ دارالعلوم دیوبند کے فتوے کی روشنی میں بتا رہے ہیں مفتی ارشد فاروقی۔

نئے سال کی مبارکباد دینا کس طرح جائز ہے؟ دارالعلوم دیوبند کے فتوے کی روشنی میں بتا رہے ہیں مفتی ارشد فاروقی۔
دیوبند:(سمیر چودھری)
فتویٰ آن لائن موبائل کے چیئرمین مفتی ارشد فاروقی نے کہاکہ سال ہجری ہو یا شمسی دونوں کے آغاز پر تقریبات کا انعقاد یا مبارکباد پیش کرنے کے بارے میں یہ بالکل واضح ہے کہ دور رسالت اور عصر صحابہ وزمانہ تابعین وائمہ متبوعین میں اس کا ثبوت نہیں ملتا اس لئے یہ بہت واضح مسئلہ کہ شریعت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے،اب اگر کوئی صرف مبارک باد دیتا ہے اس کا مقصد صرف اظہار مسرت ہے تو اس کے جواب میں مبارک باد کہنے کی گنجائش ہے بشرطیکہ اسے کسی خاص عقیدے سے نہ جوڑا جائے۔ مفتی ارشد فاروقی نے کہاکہ اس بارے میں علماءکی رائے اور فتوے سے یہی روشنی ملتی ہے ،دار العلوم دیوبند کے فتوے میں ہے ”اگر دوسرے کی نقالی یا محض رسمی طور پر کہنا مقصود نہ ہو تو نیاسال مبارک کہنے کی گنجائش ہے “۔سعودی بڑے عالم ابن عثیمین رحمہ اللہ سے سال کے آغاز میں مبارک باد دینے کے بارے میں پوچھا گیا کہ مبارک باد کہنا کل عام وانتم بخیر جیسے جملے کہنے کا کیا حکم ہے ،تو انہوں نے فرمایا یہ سلف میں متعارف نہیں ہے اس لئے اس سے گر یز بہتر ہے ہاں اگر کوئی عمر کی درازی کی دعا کرے کہ ایک سال عمر کے بیت گئے تو کوئی حرج نہیں ہے، اس لئے کہ عمر نیکی کے ساتھ لمبی ہو باعث خیر ہے ۔لیکن یہ حکم ہجری سال کا ہے، عیسوی سال کے آغاز کے موقع پر مبارکباد دینا درست نہیں ہے اس لیے کہ وہ شرعی سال نہیں ہے اور اگر کافرانہ تہوار کے موقع پر مبارکباد مسلم نے پیش کی تو غلط ہے ،البتہ مسلمانوں کے لیے ہمہ وقت دعا اور خیر چاہنا بہتر ہے۔مفتی ارشد فاروقی نے مزید کہاکہ جہاں تک 31دسمبر کی رات جشن منانے بات ہے تووہ محض لغو ہے تھرٹی ون کے موقع پر جو کچھ رسمیں اور رونقیں سجائی جاتی ہیں ان میں گناہوں کا ارتکاب مال کی بربادی کی جا تی ہے جو شیطانی عمل ہے چاہے افراد کریں یامسلم ملک اسلامی روایات سے گریز ہے ۔انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کو نئی نسل کی تربیت شریعت کے مطابق کرنی چاہیے،سال نو احتساب کی دعوت دیتاہے۔

Post a Comment

0 Comments

خاص خبر