اقتدار سے سوال کرنے پر غداری کا مقدمہ، مہاجر کالونی سے پدم شری تک، جانئے کون تھے صحافت کے عظیم ستون ونود دعا۔
سینئر صحافی ونود دعا (بمعروف ونود دوا) کا انتقال ہو گیا۔ وہ کافی عرصے سے بیمار تھے۔ ونود دعا کی بیٹی ملیکا دعا نے ایک انسٹاگرام پوسٹ کے ذریعے یہ معلومات دی۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ کچھ دن پہلے ونود دعا کی موت کی افواہ اُڑی تھی، پھر ان کی بیٹی نے اس کی تردید کر دی تھی۔ ملیکا نے بتایا کہ ونود دعا کی آخری رسومات لودھی شمشان گھاٹ میں ادا کی جائیں گی۔
ملیکا دعا نے سوشل میڈیا پوسٹ پر لکھا، ہمارے لاپرواہ، نڈر اور غیر معمولی والد ونود دعا کا انتقال ہوگیا۔ ملیکا دعا نے لکھا، اب وہ ہماری ماں یعنی اپنی بیوی کے ساتھ (سورگ) میں ہیں۔ دراصل ملیکا کی والدہ کا اسی سال کورونا سے انتقال ہو گیا تھا۔ ونود دعا اور ان کی اہلیہ کورونا کی دوسری لہر میں متاثر ہو گئے۔ ان دونوں کی طبیعت کافی بگڑ گئی تھی۔ اس کے بعد دونوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ ونود دعا 7 جون کو گھر لوٹ گئے تھے۔ تاہم ان کی اہلیہ کا 12 جون کو انتقال ہو گیا۔

ونود دعا کی عمر 67 سال تھی۔
ونود دعا 11 مارچ 1954 کو دہلی میں پیدا ہوئے تھے۔ ونود دعا نے دور درشن اور این ڈی ٹی وی میں کام کیا۔ 1996 میں وہ الیکٹرانک میڈیا کے پہلے صحافی تھے جنہیں رام ناتھ گوئنکا ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انہیں صحافت کے لیے 2008 میں پدم شری سے بھی نوازا گیا تھا۔
ونود دعا کی ابتدائی پرورش دہلی کی مہاجر کالونیوں میں ہوئی۔ 1947 میں ہندوستان کی آزادی کے بعد ان کا خاندان پاکستان کے ڈیرہ اسماعیل خان سے یہاں منتقل ہوئی تھا۔ اُنہوں نے ہنس راج کالج سے انگریزی ادب میں ڈگری اور دہلی یونیورسٹی سے ادب میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔

ونود دعا نے 1974 میں دوردرشن کے ساتھ اپنے روشن صحافتی کیریئر کا آغاز کیا اور چینل اور دیگر جگہوں پر تجربہ کار صحافی پرنائے رائے کے ساتھ انتخابی تجزیہ کے پروگراموں کو اینکر کیا۔
ونود دعا نے دوردرشن پر 'تصویر ای ہند' سونی انٹرٹینمنٹ ٹیلی ویژن پر 'الیکشن چیلنج'، زی نیوز پر 'الیکشن اینالیسس'، سہارا پر 'پرادین' اور 'پرکھ' کیا۔  اسٹار نیوز پر 'کون بنے گا چیف منسٹر' اورNDTV انڈیا پر 'Zayaka India Ka' جیسے پروگرام پیش کیے۔
1985 میں، اُنہوں نے جنوانی کو اینکر کرنا شروع کیا، جو ایک تاریخی شو ثابت ہوا، جس نے شہریوں کو وزراء سے ان کی پالیسیوں کے بارے میں سوالات کرنے کا ایک پلیٹ فارم فراہم کیا۔ دو سال بعد، 1987 میں ٹی وی ٹوڈے کو اپنے مرکزی پروڈیوسر کے طور پر جوائن کیا۔ اس کے فوراً بعد اُنہوں نے ملک کے پہلے ویڈیو میگزین، نیوز ٹریک کی تدوین شروع کی۔
ونود دعا کو 1996 میں باوقار رام ناتھ گوئنکا جرنلزم ایکسیلنس ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انہیں حکومت ہند نے 2008 میں صحافت کے لیے پدم شری سے نوازا تھا۔

اقتدار سے سوال، غداری کے الزام کا سامنا
جون 2020 میں ونود دعا پر اپنے یوٹیوب پروگرام 'ونود دعا شو' میں کچھ 'قابل اعتراض بیانات' دینے کا الزام لگایا گیا تھا۔ بی جے پی لیڈر اجے شیام کی شکایت پر ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ بی جے پی لیڈر نے شکایت میں الزام لگایا تھا کہ ونود دعا کے بیانات فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دیتے ہیں اور امن کو خراب کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ یہ بھی الزام لگایا کہ دعا نے حکومت کو COVID-19 کے لئے تیاری کی کمی کا ذمہ دار ٹھہرایا اور وزیر اعظم نریندر مودی پر ذاتی الزامات لگائے۔ نتیجے کے طور پر ونود دعا پر آئی پی سی کے تحت سنگین جرائم کا الزام لگایا گیا، جس میں غداری (دفعہ 124A)، عوامی پریشانی (دفعہ 268)، ہتک عزت (دفعہ 501) اور دفعہ 505 شامل ہیں۔

شکایت کے سلسلے میں ہماچل پردیش پولیس کی ایک ٹیم ان کی رہائش گاہ پر حاضر ہونے کے تقریباً ایک سال بعد سپریم کورٹ نے بالآخر 6 جون 2021 کو دعا کے خلاف غداری کے الزامات کو مسترد کر دیا۔

سمیر چودھری۔
DT Network