گروگرام میں کھلے میں نماز ناقابل برداشت: ہریانہ کے وزیرِ اعلیٰ کھٹرکی دھمکی۔
گروگرام: کھلے مقامات پر جمعہ کی نماز کی ادائیگی کولیکر گروگرام میں گذشتہ 2 مہینوں سے تنارعہ کا منظر تھا، بعد میں خود ہندو طبقہ نے نماز کے لئے جگہ دی حالانکہ اس سے پہلے گروگرام کے ڈی سی نے کہا تھا دونوں فریق میں اتفاق ہو گیا ہے اب کوئی نماز کی مخالفت نہیں کریگا۔ 
لیکن کل جمعہ کی نماز کو لیکر ہریانہ وزیراعلی منوہر لال کھٹر نے انتہائی سخت رویہ اپنایا ہے اور کہاکہ کھلے میں نماز کی اجازت نہیں دی جائیگی اور کھلے میں نماز کو برداشت نہیں کیا جائیگا۔
انہوں نے کہا کہ مسلمان کھلے میں نماز ادا نہ کریں وہ اپنے گھر پر ہی نماز پڑھیں کھلے میں نماز برداشت نہیں ہوگی۔ کھٹر کے بیان سے گروگرام کی مسلم تنظیموں کے اندر سخت غم و غصہ پایا جا رہاہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل گروگرام کے ڈی سی نے کہا تھا کہ ہندو سماج سے بات چیت کے بعد طے ہوا ہے کہ گروگرام میں نماز کی مخالفت نہیں ہوگی۔ مگر وزیرِ اعلیٰ منوہر لال کھٹر کے اس فرمان سے معاملہ مزید سنگین ہوگیا ہے۔ 
واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی جمعہ کی نماز ادا نہیں کی جا سکی تھی اور ہندو تنظیموں کے افراد نے نماز گاہ پر پہنچ کر بھجن کیرتن کرتے ہوئے جے شری رام کے نعروں کے ساتھ ہنگامہ کیا تھا۔