Latest News

گروگرام: نمازیوں کو بھارت ماتا کی جے اور جے شری رام بولنے پر مجبور کیاگیا، جگہ جگہ ہنگامہ، سیکٹر38 میں بھجن کیرتن اور بھنڈارہ کرکے نماز جمعہ نہیں کرنے دی ادا۔

گروگرام: نمازیوں کو بھارت ماتا کی جے اور جے شری رام بولنے پر مجبور کیاگیا، جگہ جگہ ہنگامہ، سیکٹر38 میں بھجن کیرتن اور بھنڈارہ کرکے نماز جمعہ نہیں کرنے دی ادا۔
گروگرام: گروگرام گرام میں نماز جمعہ کو لے کر جاری تنازعہ کے دوران آج بھی وہاں ہندو تو وادیوں کی جانب سے خوب ہنگامہ آرائی ہوئی، کہیں پر مسلمانوں سے جبراً جے شری رام اور بھارت ماتا کے نعرے لگانے کے بعد نماز کی پڑھنے دی گئی تو کہیں پر بھجن کیرتن اوربھنڈارا کرکے نماز سے روکا گیا۔ اطلاعات کے مطابق گروگرام کے ادھوگ وہار فیس فائیو کے علاقے میں بڑی تعداد میں ہندو تنظیموں کے لوگ نماز جمعہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے آئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ہندو تنظیموں کے لوگ مسلمانوں سے آمنے سامنے ہو گئے جس میں ہندو تو وادیوں نے نمازیوں سے جبراً بھارت ماتا کی جے بولنے پر مجبور کیا گیا۔ وہیں سیکٹر ۳۷ میں ہندو تو وادی تنظیموں کے افراد بڑی تعداد میں جمعہ ہوئے اور وہاں بھجن کیرتن اور بھنڈارا کرکے مسلمانوں کو نماز جمعہ نہیں پڑھنے دی ۔ سیکٹر ۳۷ ہی وہ جگہ ہے جہاں گزشتہ کئی ماہ سے ماحول خراب کیاجارہا ہے۔ 
اس کے علاوہ پارک میں نماز جمعہ ادا کی گئی جہاں بڑی تعداد میں مسلمان شریک ہوئے۔ قابل ذکر ہے کہ گزشتہ دنوں ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نے کھلے میں نماز پڑھنے کو لے کر پابندی کی بات کہی لیکن کوئی دوسری جگہ دے کر مسئلے کا حل نکالنے کی کوئی بات نہیں کی۔ ایسے میں آج جمعہ کی نماز کو لے کر مسلمانوں میں ابہام کی صورت بنی ہوئی تھی، اس دوران ضلع انتظامیہ کی جانب سے بھی پارک میں نماز کی ادائیگی کو لے کر کوئی حکم نامہ سامنے نہیں آیا، جس کے بعد پرانی جگہوں پر ہی مسلمان پہنچے۔سیکٹر ۳۷ سے گروگرام مسلم کونسل کے رکن صابر قاسمی نے بتایا کہ آج ہندو تو وادی کامیاب ہوتے نظر آئے وہاں کوئی بھی امام اور نہ ہی مقتدی نماز جمعہ کی ادائیگی کےلیے پہنچا۔ مولانا صابر قاسمی نے کہا کہ آج ادھوگ وہار سے تشویشناک خبر آئی ہے۔یہاں کافی دیر تک ہندو تنظیم کے لوگ ہنگامہ کرتے رہے ۔یہاں مسلمانوں کو بھارت ماتا کی جئے کہنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی گئی، کافی کوشش کے بعد نماز ادا کی گئی۔ادھوگ وہار میں نماز کی جگہ پر لوگ نماز پڑھنے پہنچے، لوگوں نے بتایا کہ پابندی کی خبر سے آگاہ نہیں تھےاس دوران ادھوگ وہار کے پارک میں جمع لوگوں نے نماز ادا کی۔لیکن اس دوران ہندو تنظیموں کی طرف سے کہا گیا کہ اگر آپ نماز پڑھنا چاہتے ہیں تو پہلے بھارت ماتا کی جئے کے نعرے لگائیں، ورنہ آپ کو یہاں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صابر قاسمی بتایا کہ اس معاملے کو مسلمانوں کی جانب سے گروگرام مسلم کونسل کے بینر تلے سابق راجیہ سبھا ممبر محمد ادیب کی قیادت اور رہنمائی میںسڑک سے لے کر سپریم کورٹ تک لڑی جارہی ہے۔ گروگرام میں موقع پر موجود انہوں نے یہ بات بتائی ادھر سائبر سٹی گروگرام میں کھلے میں نماز کو لے کر تنازعہ دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے حکومت کے لاپرواہی کے باعث معاملہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے، اس معاملے میں سی ایم کھٹر کی مداخلت کے باوجود سب کے بدلے میں ۳۷جگہوں کی نشاندہی کی گئی تھی لیکن اس پر پابندی لگادی گئی پابندی کے بعدکسی اور جگہ اجازت دے کر مسئلے کا حل کرنے کے احکامات جاری کرنے چاہئے۔ تاہم مسلم راشٹریہ منچ کی طرف سے صرف چھ عارضی جگہوں پر نماز کی اجازت دینے کی بات سامنے آئی ہیں۔ لیکن اس پر صابر قاسمی نے آر ایس ایس کی تنظیم کی بات یہ کہتے ہوئے خارج کردی کہ آر ایس ایس کی کوئی بھی تنظیم مسلمانوں کی نمائندہ نہیں ہے۔

DT Network

Post a Comment

0 Comments

خاص خبر