Latest News

بینک ملازمین کی ہڑتال دوسری دن بھی رہی جاری، تاجروں اور عوا م کو سخت پریشانی،اے ٹی ایم بھی ہوئے خالی، پانچ سو کروڑ کے نقصان کا امکان۔

بینک ملازمین کی ہڑتال دوسری دن بھی رہی جاری، تاجروں اور عوا م کو سخت پریشانی،اے ٹی ایم بھی ہوئے خالی، پانچ سو کروڑ کے نقصان کا امکان۔
دیوبند:(رضوان سلمانی)
بینکوں کو پرائیویٹ سیکٹر میںدیئے جانے کی مخالفت میں بینک ملازمین کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری رہی، بینک ملازمین میں ایس بی آئی برانچ کے باہر مظاہرہ کیا۔ بینک ملازمین کی ہڑتال کے سبب لوگوں کو رقم نکالنے کے لئے زبردست پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ،گزشتہ دو روز سے بینک ملازمین کی چل رہی ہڑتال سے 500کرو ڑ سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔
تفصیل کے مطابق آج دوسرے روز بھی یونائٹیڈ فورم آف یونین کے بینر تلے بینک ملازمین نے کورٹ روڈ پر واقع ایس بی آئی برانچ کے باہر مظاہرہ کیا ۔ اس موقع پر پروگرام کے کنوینر سنجے شرما نے کہا کہ مرکزی حکومت پارلیمنٹ کے موجودہ اجلاس میں بینکنگ قانون میں ترمیمی بل پیش کررہی ہے تاکہ حکومت بینکوں کو پرائیویٹ سیکٹر میں دے سکے۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک کے اندر اس قانون کے خلاف بینک ملازمین تحریک چلارہے ہیں ۔ انہو ں نے کہا کہ بینکوں کے راشٹریہ کرن سے بینکوں کی حالت میں سدھار ہوا تھا اور صارفین کو بھی بینکوں پر اعتماد ہوگیا تھا لیکن اب حکومت بینکوں کو پرائیویٹ سیکٹر میں کرنے جارہی ہے ، بینکوں کے پرائیویٹ سیکٹر سے بینک ملازمین ہی نہیں بلکہ صارفین بھی متا ¿ثر ہوںگے ۔یوپی بینک ان پلائزیونین کے صدر راجیو جین نے کہا کہ سرکار انہیں بڑے گھرانو ں کوسرکاری بینک فروخت کرنا چاہتی ہے جو پہلے ہی سرکاری بینکوں کا اربوں روپے کے دین دار ہیں۔ 

سکریٹری پردیپ گپتا نے کہا کہ حکومت بینکوں کو انہیں کے ہاتھوں میں سونپنا چاہتی ہے جنہوں نے بینکوں کا اربوں روپیہ دبایا ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بینکوں کو پرائیویٹ سیکٹر میں نہیں ہونے دیا جائے گا اور اس کے لئے بینک ملازمین لگاتار تحریک جاری رکھیں گے۔ اس موقع پر این کے بنسل ، راہل کپل، اوپیندر شرما، نوید علی، نیرج رستوگی، ستیش چھابڑا وغیرہ موجود رہے۔ واضح ہو کہ بینکوں کی ہڑتال کااثر صارفین پر زبردست پڑ رہا ہے ، جب کہ افسران کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اے ٹی ایم فل رہیں گے ، بینک بند ہونے کے سبب گزشتہ کل سے ہی اے ٹی ایم پر لوگوں کی لمبی لمبی لائنیں نظر آئیں ،گزشتہ کل ہی زیادہ تر دوپہر میں ہی اے ٹی ایم خالی ہوگئے تھے ، لوگوں کو ایک اے ٹی ایم سے دوسرے اے ٹی ایم کے چکر کاٹنے پڑے۔

Post a Comment

0 Comments

خاص خبر