سمری بختیارپور کی تاریخی سرزمین پر حضرت امیرشریعت کا والہانہ استقبال، تعلیمی بیداری کانفرنس سے امیرشریعت فیصل رحمانی کا خصوصی خطاب۔
سہرسہ(جعفر امام قاسمی)
اجتماعی امور کے انجام دہی کے لیے امارت کا وجود ضروری ہے،اگر امارت نہیں ہوگی تو ملک کی موجودہ صورتحال کے مطابق ہم جمعہ کے بابرکت دن میں جمعہ قائم نہیں کرپائیں گے،ہم رمضان کے پورے روزے تو رکھیں گے لیکن ہم عید الفطر کی نماز سے محروم ہو جائیں گے،اور امارت کے عدم وجود سے ہماری اجتماعیت تک ختم ہو جائے گی۔اس لیے ہمیں خود کو مضبوط و مستحکم کرنے اور اجتماعی نظام کے تحت زندگی گزارنے کے لئے امارت کو مضبوط سے مضبوط تربنانے کی فکر کرنی چاہیے۔
ان باتوں کااظہار نومنتخب امیرشریعت مولانااحمدولی فیصل رحمانی نے تنظیم ائمہ مساجد سہرسہ کے زیراہتمام رانی باغ کی جامع مسجد میں عوام کے جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے اپنے خطاب میں مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہماری قوم کے صرف 17 فیصد بچے دسویں جماعت پاس کر پاتے ہیں اور صرف چار فیصد بچے گریجویشن تک پہنچ پاتے ہیں،پھر بھی ہمیں گلہ ہوتا ہے کہ ہمارے پاس آئی ایس، آئی پی ایس، ڈاکٹر نہیں ہیں۔ امیر شریعت نے مسلمانوں کی اس تعلیمی شرح پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حاضرین سے عہد لیا کہ وہ اپنے گھرکے ہربچے کو پڑھائیں گے اور انہیں حتی الوسع اعلی سے اعلی تعلیم دلائیں گےاور اس معاملے میں اپنے پڑوس کے بچوں کا بھی خیال رکھیں گے۔امیرشریعت نے جہیزکو معاشرے کی سب سے بڑی لعنت باورکراتے ہوئے حاضرین سے عہدلیاکہ آپ سب یہ وعدہ کریں کہ نہ جہیزلیں گے، نہ جہیز دیں گے اور نہ ایسی شادی میں شرکت کریں گے جس میں جہیز کالین دین ہو۔دوران خطاب امیر شریعت نے حاضرین کو یہ خوش خبری بھی دی کہ ہم لوگ سمری بختیاپور کی سرزمین پر امارت رسیڈینٹیل پبلک اسکول قائم کریں گے اور اس کے لیے ہمیں پانچ ایکڑزمین درکارہے۔ آپ کے مقامی رکن اسمبلی یوسف صلاح الدین نے ہم سے ابھی ابھی وعدہ کیاہے کہ ہم زمین کی فراہمی اور اس اسکول کےقیام کے لیے اپنا بھرپور تعاون پیش کریں گےاورساتھ ہی امیرشریعت نے یہ بھی اعلان کیاہے کہ یہاں دارالقضاء کی عمارت کی بھی تعمیر ہوگی ، جس میں مفت طبی مرکز قائم کیاجائے گا۔
اجلاس کو امارت شرعیہ کے قاضی شریعت مفتی انظار عالم قاسمی،امارت کے نائب ناظم مفتی سہراب ندوی ،مفتی امارت شرعیہ مفتی سعید الرحمن قاسمی، مفتی شمیم اکرم رحمانی، مولانا محبوب سبحانی، مقامی رکن اسمبلی یوسف صلاح الدین وغیرہ بھی خطاب کیا۔
اس موقع پر سپاس نامہ، گلدستہ اور شال پیش کرکے پروگرام کے روح رواں ممتاز رحمانی نے حضرت امیر شریعت کا استقبال کیا جبکہ دیگر مہمان کرام کا بھی استقبال شال پیش کرکے کیا گیا، نظامت کے فرائض شاہنواز بدر قاسمی نے انجام دیئے جبکہ شاعر اسلام منظر رحمانی اور اشرف ندوی نے امیر شریعت کی شان میں منظوم خراج تحسین پیش کیا. اس کے علاوہ جعفر امام نے اردو زبان کی اہمیت پر نظم پیش کی. قبل ازیں پروگرام کا باضابطہ آغاز قاری برکت اللہ کی تلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا۔

اس موقع پر جمعیتہ علماء کے ضلع جنرل سیکریٹری مولانا مظاہرالحق، مولانا سعود قاسمی، حاجی احسان الحق سوپول، مفتی رضوان قاسمی مدرسہ رحمانیہ سوپول، مولانا ضیاالدین ندوی، حافظ احتشام رحمانی خانقاہ رحمانی مونگیر، پروفیسر نعمان خان، صحافی وجیہ احمد تصور، قاری رستم رحمانی، پروفیسر طاہر، ڈاکٹر طارق، پروفیسر ابوالفضل سمیت علاقہ کے دیگر علماء کرام ، ائمہ مساجد، دانشوران، سیاسی وسماجی شخصیات اور بڑی تعداد میں نوجوان موجود رہے۔

سمیر چودھری۔
DT Network