حج کمیٹی کی تشکیل نو کو لیکر عدالت عظمیٰ نے حکومت کے رویے پر کیا سخت رخ کا اظہار۔
نئی دہلی: (ایجنسی) حج کمیٹی آف انڈیا کی تشکیل نو ودیگر کئی معاملات کے سلسلے میں دائر مفاد عامہ کی عرضی پر جمعہ کو سماعت کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے حکومت کے رویے پر سخت رخ اپنایا اور 8 ہفتہ کے اندر مرکزی حکومت سے حلف نامہ داخل کرنے کو کہا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس عبد النذیر اور جسٹس کرشن مراری کی بینچ نے سماعت کرتے ہوئے کہا کہ یہ آخری موقع دیا جا رہا ہے۔ کئی اسٹیٹ کے وکیل اور سرکاری وکیل نٹراجن وغیرہ نے بحث میں کہا کہ بہت سے اسٹیٹ میں الیکشن تھے اور پہلے کووڈ تھا اور ہم کمیٹی بنانے میں لگے ہیں۔
عرضی گزار حج کمیٹی آف انڈیا کے سابق ممبر حافظ نوشاد احمد اعظمی کے وکیل طلحہ عبدالرحمٰن نے عدالت سے بحث کے دوران مطالبہ کیا کہ حج کا وقت قریب آ رہا ہے اس لیے اس پر عدالت کوئی فیصلہ دے۔
واضح رہے کہ جون 2020 سے حج کمیٹی آف انڈیا کی تشکیل نہیں ہوئی ہے اور بہت سے اسٹیٹ میں بھی حج کمیٹیاں نہیں ہیں مرکزی حج کمیٹی میں اسٹیٹ حج کمیٹی سے نومنتخب نمائندے ملک بھر سے شامل ہوتے ہیں۔