کرناٹک ہائی کورٹ کا فیصلہ "اسلام کا لازمی جز نہیں ہے پردہ" مفتی عفان منصورپوری نے کہا سپریم کورٹ جانے سے ضروری مسلمان یہ کام۔۔۔۔۔
دیوبند: کئ ماہ سے جاری پردے کے تنازعے پر کرناٹک ہائی کورٹ نے منگل کے روز اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ پردہ اسلام کا لازمی حصہ نہیں ہے، اس لیے اسکولوں میں ڈریس کوڈ نافذ رہے گا اور حکومت کے حکم نامے میں کوئی ترمیم نہیں کی جائے گی، ساتھ ہی ہائیکورٹ نے پردے کے سلسلے میں داخل کی گئی تمام عرضیوں کو بھی خارج کر دیا ہے۔ ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ممتاز عالم دین اور جمعیت علماء ہند کے تعلیمی بورڈ کے صوبائی صدر نوجوان عالم دین مولانا مفتی سید عفان منصور پوری نے کہا کہ کرناٹک ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ "حجاب اسلام میں لازمی نہیں ہے"  نصوص قرآنی کے سراسر خلاف ہے، غالباً جج صاحبان نے مسلم خواتین کی عمومی بے حجابی کو اپنے فیصلے کی بنیاد بنایا ہے اس لیے اب سپریم کورٹ میں جانے سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ مسلم معاشرے میں پردے کا عام ماحول بنانے پر محنت کی جائے۔
غور طلب امر ہے کہ حجاب کے معاملے پر آج کرناٹک ہائی کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے مسلم لڑکیوں کی طرف سے دائر کی گئی تمام عرضیوں کو خارج کردیا ہے۔ اس عرضی میں مسلم لڑکیوں نے اسکول اور کالج میں حجاب پہننے کی اجازت مانگی تھی اور پانچ فروری کے سرکاری حکم کو چیلنج دیا گیا تھا۔ کرناٹک ہائی کورٹ کی تین رکنی بنچ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ حجاب اسلام کا لازمی جز نہیں ہے۔ کرناٹک ہائی کورٹ نے آٹھ منٹ میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ یونیفارم کے سلسلے میں حکومت کا فیصلہ قانون کے مطابق ہے۔ کرناٹک ہائی کورٹ نے مزید یہ بھی کہا کہ ڈریس پر جو پابندیاں نافذ کی گئی تھیں، وہ مناسب تھیں اور طلبا ءاس پر اعتراض نہیں کرسکتے۔ اس طرح سے کرناٹک میں حجاپ پر پابندی برقرار رکھی گئی ہے۔
واضح رہے کہ حجاب تنازعہ معاملے میں آپ کو جاننے کی ضرورت ہے۔ کئی دنوں کے احتجاج، مظاہروں، الزامات، جوابی الزامات اور بیک ٹو بیک سماعتوں کے بعد کرناٹک ہائی کورٹ نے آج منگل کے روز یعنی 15 مارچ 2022 کو حجاب کیس پر اپنا فیصلہ سنادیا ہے۔

سمیر چودھری۔