حجاب معاملے میں کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے پر دارالعلوم دیوبند کا رد عمل، "پردہ اسلام کا لازمی حصہ اور قرآن کا حکم ہے"۔
دیوبند: دارالعلوم مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے حجاب سے متعلق کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کو ناقابل قبول قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کا یہ بیان کہ "حجاب اسلام کا لازمی حصہ نہیں ہے"  یہ سراسر غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ پردہ اسلام میں واجب ہے اور قرآن اس کا حکم دیتا ہے۔
دارالعلوم دیوبند (جو عدالتی فیصلوں کے بارے میں عام طور پر خاموش ہی رہتا ہے) نے اس معاملے پر فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے قومی ملی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ حجاب پر کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں۔ دارالعلوم کے مہتمم مفتی ابو القاسم نعمانی نے کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے پر فوری رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر عدالت کہتی ہے کہ پردہ اسلام میں لازم نہیں ہے تو اس کی تردید کی جانی چاہیے۔ کیونکہ پردہ ضروری ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پردہ اسلام کا حصہ ہے اور اس کا لازمی ہونا قرآن سے ثابت ہے۔ 
مفتی نعمانی نے کہا کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے اور کسی بھی حکومتی تسلیم شدہ تعلیمی ادارے کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ ایسے قوانین بنائے جو کسی مذہب یا روایت کے خلاف ہوں۔ مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہا کہ انہوں نے ابھی تک ہائی کورٹ کے فیصلے کی کاپی نہیں دیکھی، اس لیے فی الحال کوئی حتمی تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن خبروں کے ذریعے کرناٹک ہائی کورٹ کا فیصلہ سامنے آیا ہے، اس کے مطابق یہ فیصلہ درست نہیں ہے اور اس پر نظر ثانی کی جانی چاہیے۔

سمیر چودھری ۔