حجاب پر عدالت کا فیصلہ شریعت میں مداخلت، مسلم پرسنل لا بور ڈ نے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔
نئی دہلی: مسلمانوں کی سرکردہ تنظیم آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) نے حجاب کے معاملے پر سپریم کورٹ میں ایک خصوصی درخواست دائر کی ہے۔ انہوں نے کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے۔ ہائی کورٹ نے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کو برقرار رکھتے ہوئے کہا تھا کہ حجاب پہننا ضروری مذہبی عمل نہیں ہے۔
مسلم پرسنل لاء بورڈ کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ مسلم لڑکیوں کے ساتھ براہ راست امتیازی سلوک کا معاملہ ہے۔ ہائی کورٹ نے بجائے سیاق و سباق کے (نظم وضبط وغیرہ) طے شدہ اصولوں کے درمیان فرق پیدا کیا ہے۔ دوسری طرف،اس نے سمجھا کہ لڑکیاں روایتی حجاب پہننے کی مانگ لازمی یونیفارم کے معاملے دخل دے رہی ہیں، حالانکہ اسی لازمی یونیفارم کےتحت سکھوں کی سرڈھانپنے کی روایت کی طرح قوانین میں معمولی تبدیلیاں کرکے اجازت دی جاسکتی تھی ۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ کسی مذہب کے شخص کو اپنے بالوں کو یونیفارم میں کپڑے سے ڈھانپنا اور اسے ایڈجسٹ نہ کرنا خود انصاف کا مذاق اڑانا ہے۔ یہ فیصلہ انصاف کے ان اصولوں کو بھی نظر انداز کرتا ہے، جن میں تمام روایات کو مناسب جگہ دینے کا کہا گیا ہے۔ 
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ بنیادی حقوق کے تحفظ کے معاملے سے نمٹنے میں ہائی کورٹ کے فیصلے کی مکمل غلط تشریح کی گئی ہے۔ ہائی کورٹ بھول گئی ہے کہ یہ رواج ملک کے مختلف حصوں میں مختلف شکلوں میں ہے۔ جبکہ انہوں نے تمام طلباء کے لیے یونیفارم پر زور دیا۔ اس طرح کی تشریح نہ صرف ملک کے مختلف حصوں میں رائج طریقوں کے خلاف ہے۔ یہ مکمل طور پر غیر معقول اور تنوع کو برقرار رکھنے کے مقصد کے خلاف ہے جیسا کہ ہندوستان کے آئین میں بیان کیا گیا ہے۔تاہم ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں آل کیرل جمعیۃ علما نے بھی عرضی دائر کی ہے ۔ ۲۴مارچ کو سپریم کورٹ نے کرناٹک ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کرنے والی عرضی کی سماعت کے لیے کوئی مخصوص تاریخ دینے سے انکار کردیا۔ 
ایڈووکیٹ عادل احمد اور رحمت اللہ کوتھوال کے ذریعے دائر کردہ ایک اور درخواست میں کہا گیا کہ ہائی کورٹ کا حکم غیر مسلم طالبات اور مسلم طالبات میں سیکولرازم کے تصور کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔ عرضی میں کہا گیا: ’ہائی کورٹ کا حکم ہندوستان کے آئین کے آرٹیکل ۱۴، ۱۵، ۱۹، ۲۱ اور ۲۵کی بھی خلاف ورزی ہے اور بین الاقوامی اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔ جس پر ہندوستان نے دستخط کئے ہوئے ہیں ۔‘قبل ازیں لکھنو میں گزشتہ روز بورڈ کے عاملہ کی میٹنگ میں حجاب کے تعلق سے کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلہ پر تفصیل سے اظہار خیال کیاگیا۔بورڈ نے کہاکہ ملک کا دستور ملک کے ہر شہری کو اپنی شناخت اور وقار کے ساتھ جینے کاحق اور شخصی آزادی کا اختیار دیتا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف شخصی آزادی کے منافی ہے بلکہ مذہبی وثقافتی آزادی کے حق کو بھی سلب کرتا ہے۔بورڈ نے گہری تشویش ظاہر کی کہ یہ فیصلہ مسلم طالبات کی تعلیم کے حق کو بھی متأثر کرے گا۔ اس فیصلہ نے مسلم طالبات کے سامنے یہ سوال بھی کھڑا کردیا ہے کہ وہ تعلیم اور حجاب میں سے کس کو ترجیح دیں۔ گو کہ اس فیصلہ کا تعلق اڈوپی ( کرناٹک ) اسکول کی طالبات کے شخصی حق اور مذہبی آزادی سے متعلق تھا۔ تاہم اب اسے کرناٹک کے تمام اسکولوں، جونیئر کالجوں اور بور ڈکے امتحانات تک وسیع کردیا گیا جو انتہائی قابل مذمت اور شرمناک ہے۔بورڈ نے کہاکہ ہائی کورٹ نے شخصی آزادی کے حق پر بات کرتے ہوئے یہ فیصلہ بھی دے دیا کہ حجاب اسلام کا لازمی جزء نہیں ہے۔ بورڈ نے اس پر اپنی شدید تشویش کااظہار کرتےہوئے یہ کہا کہ " کیا اب عدالتیں یہ بھی طے کریں گی کہ کس مذہب میں کونسی چیز لازمی ہے اور کونسی چیز لازمی نہیں" ، بورڈ نے اس تعلق سے یہ واضح کردینا ضروری سمجھتی ہے کہ کس مذہب میں کو نسی چیز لازمی ہے اور کونسی نہیں، یہ طے کرنے کا اختیار عدالتوں کو نہیں بلکہ اس مذہب کے علما اور اسکالرز کو ہے۔ اسی طرح دستور ہند کی روشنی میں ہر شخص کو یہ طے کرنے کا حق بھی ہے کہ اس کے مذہب نے اس کے لئے کونسی چیز لازمی کی ہے اور کونسی نہیں۔ بورڈ کی مجلس عاملہ کو اس پر بھی شدید اعتراض اور تشویش ہے کہ اب عدالتیں مقدس مذہبی کتابوں کی بھی من مانی تشریح کرنے لگی ہیں حالانکہ اس کا نہ انھیں اختیار ہے اور نہ ہی وہ اس کی اہل ہیں۔ 
کرناٹک ہائی کورٹ کے اس فیصلہ نے اس بات کا بھی اندیشہ پیدا کردیا ہے کہ آئندہ دیگر مذہبی طبقات کی مذہبی پہچان جیسے پگڑی، صلیب اور بندی وغیرہ پر بھی پابندےلگادی جائے۔مجلس عاملہ نے بورڈ کے ذریعہ ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کی پرزور تائید کی اور اس پر بھی اطمینان کا اظہار کیا کہ بورڈ کی یہ پٹیشن دو خواتین ارکان کی طرف سے داخل کی گئی اور ایک پٹیشن خود بورڈ کی طرف سے داخل کی گئی ہے۔ مجلس عاملہ نے کرناٹک حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے تک مسلم طالبات کو حجاب کے ساتھ اسکول میں آنے اور امتحان دینے سے نہ روکاجائے۔آل انڈیامسلم پرسنل لا بور ڈ کی مجلس عاملہ نے یونیفارم سول کو ڈ کا مسودہ تیارکرنے کے لئے اتراکھنڈ ریاستی اسمبلی کے ذریعہ ایکسپرٹ کمیٹی کے قیام کو بے وقت کی راگنی اور غیر دستوری عمل قراردیا۔ عاملہ کا احساس ہے کہ بھارت جیسے کثیر مذہبی و کثیر تہذیبی ملک میں یکساں سول کو ڈ کا مطالبہ کرنا دراصل مذہبی آزادی کے بنیادی حق پر تیشہ چلانے کے مترادف ہے۔ بھارت کے دستور نے ناگا لینڈ اور میزو رم کے ناگا اور کوکی قبائلیوں کو یہ تیقن دیا ہے کہ بھارت کی پارلیمنٹ کوئی ایسا قانون نہیں بنائے گی جو ان کی مذہبی و سماجی عادات اور رواجی قوانین کو منسوخ کردے۔ ( دفعہ 371A اور 371G )بورڈ نے کہاکہ یونیفارم سول کوڈ دراصل اقلیتوں کی مذہبی و ثقافتی شناخت کو ختم کرنے کی جانب پہلا قدم ہے۔ مجلس عاملہ محسوس کرتی ہے کہ درا صل یہ ہندتوا کے اس بڑے ایجنڈے کا بنیادی حصہ ہے جس کے ذریعہ وہ ملک میں موجود الگ الگ مذہبی و ثقافتی اکائیوں کوجبراً اکثریت کے مذہب و ثقافت میں ضم کردینا چاہتی ہیں۔
بورڈ کی مجلس عاملہ کااحساس ہے کہ کثرت میں وحدت ہی بھارت کی اصل طاقت اور پہچان ہے اور اس کو ختم کرنے کی بالواسطہ یا براہ راست ہر کوشش ملک میں انتشار اور بد امنی کو ہی ہوا دے گی۔ مجلس عاملہ کا احساس ہے کہ یہ ایک خطرناک رجحان ہے اور ملک کے تمام انصاف پسند لوگوں اور مذہبی اکائیوں کو اس کی شدت سے مخالفت کرنی چاہیے۔