دو سال بعد عرب ممالک میں مکمل طور پر بحال ہونگی رمضان المبارک کی رونقیں، بڑے پیمانے پر تیاریاں جاری۔
دبئی: رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کی آمد کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ عرب ممالک نے گذشتہ دو سال کے دوران غیر معمولی حالات کے بعد کرونا وائرس کے خلاف اقدامات میں نرمی کا فیصلہ کیا ہے اور اس مہینے کے لیے عبادات، روحانیت اور رمضان دسترخوانوں کی واپسی کی اجازت دے دی ہے۔
کرونا کے اقدامات نے سال 2020 اور 2021 میں رمضان المبارک کی روحانیت کو اجتماعی سطح پر بری طرح متاثر کیا۔ لوگ گھروں میں بند ہو کر رہ گئے۔ گھروں میں اجتماعی افطاریوں اور پبلک مقامات پر افطار کے تمام پروگرامات ختم کردیے گئے۔ یہاں تک کہ مساجد میں اجتماعی نماز تراویح کے بجائے اسے گھروں میں انفرادی نماز تک محدود کیا گیا۔ مساجد میں رمضان کے دوران اعتکاف کی بھی اجازت نہیں تھی۔تاہم اس سال رمضان کا مہینہ، جو کہ فلکیاتی طور پر 2 اپریل کو متوقع ہے،ایک نئے روپ کے ساتھ لوٹ رہا ہے۔ عرب ممالک نیرمضان کے موقعے پر عبادات اور سرگرمیوں کی اجازت دی ہے جو گذشتہ دو سال سے ممنوع تھیں۔امید ہے کہ اعتکاف، تہجد، تراویح، مساجد میں رمضان کے اسباق، افطار پارٹیاں اور اس موقع سے وابستہ ورثہ اور فنی سرگرمیاں پوری قوت کے ساتھ لوٹ آئیں گی۔
حالیہ مہینوں میں زیادہ تر عرب ممالک میں کرونا وائرس سے انفیکشن اور اموات کی شرح میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے جس کی وجہ سے ان میں احتیاطی تدابیر میں نرمی کی گئی ہے۔ترک اناطولیہ کے مطابق اس سال واپس آنے والی رمضان المبارک کی رسومات کے حوالے سے اہم ترین سرکاری عرب فیصلے اور ہدایات حسب ذیل ہیں۔22 مارچ کو سعودی عرب نے 9 مارچ 2020 اور 6 اپریل 2021 کو دو سال کی پابندی کے بعد کرونا سے نمٹنے کے لیے اقدامات میں نرمی کرتے ہوئے رمضان المبارک میں حرمین شریفین میں اعتکاف کی واپسی کا اعلان کیا۔ روزہ داروں کے لیے افطاری کے منصوبے مملکت میں واپس آگئے اور وزارت اسلامی امور نے 22 مارچ کو ان کے حوالے سیشرائط جاری کیں۔14 مارچ کو متحدہ عرب امارات نے رمضان کے مہینے میں روزہ افطار خیموں کی سرگرمی کی واپسی کے لیے ایک پروٹوکول کا اعلان کیا جس میں سماجی فاصلے کی پابندی کو منسوخ کرنے جیسے اقدامات شامل تھے۔ 14 مارچ کو کویتی وزارت صحت نے وبائی امراض کی صورتحال کے اشارے میں مسلسل بہتری کے بعد رمضان دسترخوانوں اور افطاری مہمات کی واپسی کی اجازت دیتے ہوئے اس سال رمضان کے مہینے کی مکمل شکل اور سرگرمیوں میں واپسی کا اعلان کیا۔6 مارچ کو کویتی وزارت اوقاف اور اسلامی امور کے انڈر سیکرٹری فرید عمادی نے ماہ رمضان کے حوالے سے ایک میٹنگ کے بعد کہا کہ مساجد نمازیوں کو تراویح کی نماز اور ادا کرنے والوں کو پہلے کی طرح ادا کرنیکی اجازت ہوگی۔مارچ کے وسط میں، مصری وزارت اوقاف نے دو سال کے وقفے کے بعد رمضان کے اسباق کی واپسی کا فیصلہ کیا بشرطیکہ خطبات اہم مساجد میں ہوں، جبکہ احتیاطی صحت کے اقدامات، خاص طور پر سماجی دوری پر عمل کریں۔احتیاطی تدابیر کے درمیان مساجد میں نماز تراویح کے تسلسل کے ساتھ وزارت اوقاف نے25 مارچ کو مصری وزیر اوقاف مختار جمعہ کے اعلان کے مطابق خواتین کو نماز پڑھنے کے لیے مساجد میں آنے کی اجازت دی جائے گی۔ 27 مارچ کو حکومت نے دو سال کی پابندی کے بعد رمضان دسترخوانوں کی واپسی اور با جماعت نماز تراویح کی واپسی کی اجازت دی۔21 مارچ کو اردن میں میڈیا کے امور کے وزیر مملکت اور حکومت کے ترجمان فیصل شبول نے تمام گورنریوں میں ماہ صیام کے دوران کھیلوں، ثقافتی، سیاحتی اور سماجی تقریبات کے انعقاد کے لیے رمضان مہم شروع کرنے کا اعلان کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس مہم کا مقصد معاشرے میں رمضان کی معمول کی رسومات کو بحال کرنا، مثبت جذبے کو پھیلانا اور تفریح کے ماحول کو بحال کرنا ہے۔ شبول نے کہا کہ حکومت رمضان کے قریب آنے کے لیے متعدد احکامات میں ترمیم کرنے کے لیے کام کررہی ہے۔