ٹیپوسلطان کونصاب سے بالکلیہ نہیں ہٹایاجائے گا: وزیرتعلیم۔
بنگلورو: ٹیپو سلطان کے بارے میں بحث کوئی نئی بات نہیں ہے۔ بی جے پی اور دائیں بازو کی تنظیموں کو ٹیپو سلطان کے نام پر اعتراض ہے۔ ٹیپو سلطان کی یوم پیدائش منانے کے معاملے پر کانگریس اور بی جے پی کے درمیان کشمکش دیکھنے میں آئی ہے۔ کچھ ٹیپو سلطان کو محب وطن اور کچھ فرقہ پرست حکمران کے طور پر بیان کرتے ہیں۔
بی جے پی اور بجرنگ دل ٹیپو کی مخالفت میں نظر آتے ہیں کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ وہ مراٹھوں کے خلاف لڑے تھے۔ اب جب کرناٹک کے نصاب سے ٹیپو سلطان کو ہٹانے کی بات ہوئی تو وزیر تعلیم بی سی ناگیش نے واضح کیاہے کہ ایسا کوئی خیال نہیں ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ کتابوں سے صرف وہ حصہ نکالا جائے گا جہاں فرضی باتیں لکھی گئی ہوں۔ یہ بیان ٹیکسٹ بک ریویو کمیٹی کی رپورٹ میں نصاب میں تبدیلی اور خاص طور پر ٹیپو سلطان کے مضمون میں تبدیلی کے بارے میں بات کرنے کے ایک دن پہلے سامنے آیا ہے۔ وزیر تعلیم نے کہاہے کہ جن باتوں کے تاریخی شواہد ہوں وہ بچوں کو بتائیں۔ 
ٹیپو سلطان کا موضوع سلیبس سے نہیں نکالا جائے گا۔انہوں نے کہاہے کہ ٹیپو سلطان کو جس نام سے پکارا جاتا ہے اسے کتابوں سے نکال دیا جائے گا۔ ہم چاہتے ہیں کہ بچے اصل تاریخ جانیں۔ اگر اس بات کا ثبوت مل جائے کہ ٹیپو سلطان میسور کا شیر تھا تو ان کا لقب زندہ رہے گا۔